انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ کے ذریعہ بار بار نوٹس دیے جانے اور تحقیقاتی ایجنسیوں کی چھاپہ ماری پر دہلی کے وزیر اعلی کیجریوال سخت برہم ، کہا اگر میں بی جے پی میں شامل ہو جائوں تو سارےگناہ معاف ہو جائیں گے
اروندکیجریوال نے اپنے بیان میں اور کیا کہا
ہم پر جھوٹے الزام عائد کیے جا رہے ہیں
ہمارے پیچھے تحقیقاتی ایجنسیوں کو چھوڑ دیا
ہم بی جے پی سے ڈرنے والے نہیں ہیں
اچھے کام کرنے کی ہمیں سزا دی جا رہی ہے
نئی دہلی :عام انتخابات 2024؍سے عین قبل سیاسی پارٹیوں کو توڑو یا ساتھ جوڑو کی سیاست بی جے پی کی جانب سے تیز ہو گئی ہے ۔اس کا انکشاف عام آدمی پارٹی کے کنوینر اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کیا ہے۔یہ انکشاف اس وقت کیا ہے کہ جب جھارکھنڈ کے وزیر اعلی رہے ہیمنت سورین کے بعد خود ان پر گرفتاری کی تلوار لٹک گئی ہے۔جس طرح سے انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ اور کرائم برانچ ایکٹو ہو گئے ہیں اس سے یہی لگ رہا ہے کہ کسی بھی وقت کیجریوال کو گرفتار کرکے منیش سسودیا ، سنجے سنگھ کی طرح جیل میں ڈالا جا سکتا ہے ۔ یہ اس وقت ہو رہا ہے کہ جب عام انتخابات کی تیاریاں شباب پر ہیں اور کیجریوال انڈیا اتحاد کا اہم حصہ ہیں ۔ کیجریوال کو کیوں پریشان کیا جا رہا ہے اس کا انکشاف خود اب انھوں نے کر دیا ہے اور بی جے پی پر بڑا الزام عائد کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اگر میں بی جے پی میں شامل ہو جائوں تو آج میرے سارے خون معاف ہو جائیں ۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی ہم پر دبائو بنا رہی ہے کہ میں اس کے ساتھ ہو جائوں لیکن ایسا نہیں ہو سکتا ۔ میں جھکنے والا نہیں ہوں ۔ واضح رہے کہ یہی بات دہلی کے سابق نائب وزیر اعلی منیش سسودیا بھی کہتے تھے ۔ ان کا بھی کہنا تھا کہ بی جے پی کی جانب سے دبائو بنایا جا رہا ہے کہ وہ بی جے پی میں شامل ہو جائیں ۔ علاوہ ازیں دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے اتوار کو کراڑی اسمبلی حلقہ میں دو اسکولوں کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس دوران انہوں نے جلسہ عام سے خطاب بھی کیا۔ اس میں انہوں نے بی جے پی پر زوردار حملہ کیا ۔ دہلی پولیس کی طرف سے نوٹس ملنے پر انہوں نے کہا کہ ان پر بی جے پی میں شامل ہونے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ پارٹی کے اندر خوف کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہاکہ میں کبھی بی جے پی میں شامل نہیں ہوں گا۔ اگر بی جے پی میں شامل ہو جاؤ ںتو سارے خون معاف ہیں، لیکن ہم نے کچھ غلط نہیں کیا ہے۔دہلی کے وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ آج کل لوگ ہمارے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ آپ روز اخبار میں پڑھتے ہوں گے۔ ان کی حکومت نے منیش سسودیا کو جیل میں ڈال دیا۔ بی جے پی کہتی ہے کہ انہوں نے کرپشن کی ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ وہ صبح اٹھ کر اسکولوں کے چکر لگانے لگتے تھے، آخر کرپٹ اسکولوں کے چکر لگانے والا کون ہے؟ کرپٹ لوگ رات کو شراب پیتے ہیں اور رات بھر غلط کام کرتے ہیں۔ یہ سب میرے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔بی جے پی پر سخت حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت سرکاری ایجنسیوں کا غلط استعمال کر رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ تحقیقاتی ایجنسیوں کوہمارے پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے۔ منیش سسودیا کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے اچھے اسکول بنائے اور غریب بچوں کو اچھی تعلیم دے رہے تھے۔ ستیندر جین کو اس لیے جیل بھیجا گیا کہ وہ اچھے اسپتال بنا کر لوگوں کا اچھا علاج کر رہے تھے، اگر وہ اتنا اچھا کام نہ کرتے تو آج انہیں جیل نہ جانا پڑتا۔آپ کو بتا دیں کہ دہلی شراب پالیسی گھوٹالہ معاملے میں پوچھ گچھ کے لیے ای ڈی مسلسل انہیں سمن جاری کر رہا ہے، لیکن اروند کیجریوال ای ڈی کے سامنے پیش نہیں ہو رہے ہیں۔ وہیںاروند کیجریوال کی طرف سے بی جے پی پر لگائے گئے الزامات پر بھی سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے ۔ اروند کیجریوال نے بی جے پی پر عام آدمی پارٹی کے ایم ایل ایز کو توڑنے کا الزام لگایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ بی جے پی اپنے 7 ایم ایل ایز کو خریدنے کے لیے 25 ؍کروڑ روپے دے رہی ہے۔ اب اس معاملے میں بی جے پی کی شکایت پر دہلی پولیس نے نوٹس جاری کر کے سی ایم کیجریوال سے 3 ؍دن کے اندر جواب دینے کو کہا ہے۔












