صدر جمہوریہ کے خطبہ پراپوزیشن کا زوردار حملہ
جمہوریت پر حملے خطبے میں نہیں شامل کیے گئے
بی جے پی کے لیے رام ووٹ حاصل کرنے کا ذریعہ
مودی حکومت نے کوئی بھی وعدہ پورا نہیں کیا
نہ مہنگائی کم ہوئی اور نہ نوجوانوں کو روزگار مل سکا
نئی دہلی :صدر جمہوریہ ہند کے خطاب سے پارلیمنٹ کا عبوری بجٹ اجلاس شروع ہوا ۔ اس کے ساتھ ہی سابقہ اجلاس میں برخاست کیے گئے اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ کو بحال کر دیا گیا اور مودی حکومت کی جانب سے پر امن طریقہ سے بجٹ اجلاس چلانے میں تعاون کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔اس کے ساتھ ہی پرنسپل اپوزیشن کانگریس پارٹی نے صدر جمہوریہ کے خطبہ کو حکومت کا تیار کردہ مسودہ قرار دیا اور افسوس کااظہار کیا ۔اپوزیشن کے رد عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ پھر ہنگامہ ہوگا۔ علاوہ ازیں صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے مودی حکومت کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں عبوری دور میں اپنی مضبوط حکمرانی کے ساتھ حکومت نے اپنی خارجہ پالیسی کو ماضی کی پابندیوں سے بہت آگے نکل کر گلوبل ساؤتھ کے ترقی پذیر ممالک کی آواز اٹھائی اور ہندوستان کو ایک ‘عالمی دوست’ کے طور پر قائم کیا ۔صدر مرمو نے پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے آغاز پر یہاں نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں لوک سبھا کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ‘‘ہم نے دیکھا ہے کہ عبوری دور میں مضبوط حکومت کا کیا مطلب ہے ۔ گزشتہ تین برسوں سے پوری دنیا میں ہنگامہ برپا ہے ۔ دنیا کے مختلف حصوں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ اس مشکل وقت میں میری حکومت نے ہندوستان کو ایک عالمی دوست کے طور پر قائم کیا ہے ۔ ورلڈ فرینڈ کے کردار کی وجہ سے ہی آج ہم گلوبل ساؤتھ کی آواز بن چکے ہیں۔ صدر جمہوریہ نے کہاکہ گزشتہ 10 برسوں میں ایک اور پرانی سوچ بدلی ہے کہ اس سے قبل سفارت کاری سے متعلق پروگراموں کو دہلی کی راہداریوں تک محدود رکھا جاتا تھا۔ میری حکومت نے اس میں عوام کی براہ راست شرکت کو بھی یقینی بنایا ہے ۔ اس کی ایک بڑی مثال ہندوستان کی G-20 کی صدارت کے دوران دیکھنے کو ملی۔ ہندوستان نے جس طرح سے G-20 کو لوگوں سے جوڑا اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ملک بھر میں منعقدہ پروگراموں کے ذریعے دنیا کو ہندوستان کی حقیقی صلاحیتوں سے متعارف کرایا گیا۔ جموں کشمیر اور شمال مشرق میں پہلی بار اتنا بڑا بین الاقوامی ایونٹ ہوا ہے ۔ ’’صدر جمہوریہ نے کہاکہ پوری دنیا نے ہندوستان میں منعقدہ تاریخی G-20 کانفرنس کی تعریف کی۔ ایسے منقسم ماحول میں بھی دہلی کے منشور کا متفقہ اجراء تاریخی ہے ۔ ہندوستان کا وژن، ‘خواتین کی زیر قیادت ترقی’ سے لے کر ماحولیاتی مسائل تک دہلی اعلامیہ کی بنیاد ہے ۔ G-20 میں افریقی یونین کی مستقل رکنیت حاصل کرنے کے لیے ہماری کوششوں کو بھی سراہا گیاہے۔ محترمہ مرمو نے کہا کہ اس کانفرنس کے دوران ہندوستان-مشرق وسطی-یوروپ اکنامک کوریڈور ( آئی ایم اے سی ) کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا۔ یہ راہداری ہندوستان کی سمندری صلاحیت کو مزید مضبوط کرے گی۔ گلوبل بائیو فیول الائنس کا اعلان بھی ایک بڑا واقعہ ہے ۔ اس طرح کے اقدامات عالمی مسائل کے حل میں ہندوستان کے کردار کو وسعت دے رہے ہیں۔محترمہ مرمو نے کہا کہ عالمی تنازعات اور تنازعات کے اس دور میں بھی حکومت نے مضبوطی سے ہندوستان کے مفادات کو دنیا کے سامنے رکھا ہے ۔ آج ہندوستان کی خارجہ پالیسی کا دائرہ ماضی کی پابندیوں سے بہت آگے نکل گیا ہے ۔دوسری جانب لوک سبھا میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر گورگوگوئی نے کہا کہ صدر جمہوریہ نے جو خطبہ دیا ہے وہ حکومت کا تیار کردہ ہے ۔ انھوں نے کہا کہ حکومت نے جو چیزیں مہیا کرائی ہیں وہی صدر جمہوریہ نے بتایا ۔ انھوں نے کہ یہ مودی حکومت کا آخری سال ہے ۔ انھوں نے کہا کہ مودی حکومت نے جو وعدے 2014؍اور 2019؍میں کیے تھے ان کا ذکر نہیں کیا گیا کیونکہ وہ پورے نہیں ہوئے ۔ انھوں نے کہا کہ مودی کی گارنٹی سفید جھوٹ ہے ۔ گوگوئی نے کہا کہ کیا آج تک کسی کے اکاونٹ میں پندرہ پندرہ لاکھ روپے آئے ، کیا دو کروڑ سالانہ نوکریاں ملیں ؟ کیا مہنگائی کم ہوئی ؟ کیا کسانوں کی آمدنی دو گنا ہو گئی ؟ ایک کے بدلے دس سر لاوں گا تو کیا چین نے جو ہمارے 20؍فوری مارے تھے تو دو سو سر آئے ۔کانگریس نے کہا کہ روپے کتنا کمزور ہو گیا ہے کیا اس کی کوئی حد ہے ۔گوگوئی نے کہا کہ میں بھی بھگوان رام کو مانتا ہوں دل میں رکھتا ہوں اور وہ موکش کو حاصل کرنے کے لیے ہیں لیکن بی جے پی کے لیے بھگوان رام ووٹ حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں ۔کانگریس نے کہا کہ صدر جمہوریہ کو کم از کم کچھ تو سچ بولنا چاہئے ، جو جمہوریت پر حملے ہو رہے ہیں ان کا ذکر تو کرنا چاہئے تھا لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہوا۔












