مسائل کو حل کرنے کے لیے کسانوں اور مودی حکومت کے درمیان تیسرے دور کی میٹنگ آج ،وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیر زراعت ارجن منڈا نے کسانوں کے جاری احتجاج اور مسائل کو حل کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا
کسانوں کی تحریک کے دوسرے دن کیا کیا ہوا
دہلی کی کل 29؍سرحدوں کو پوری طرح سیل کیا گیا
کسان سمجھانے کے بعد بھی واپس جانے کو تیار نہیں
پنجاب میں آج ریل روکو اور ٹول بند کرو کا اعلان
کسانوں کی تحریک کے سبب ٹریفک کا نظام درہم برہم
نئی دہلی :ایم ایس پی کو قانونی درجہ دیے جانے، سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشات کو نافذ کرنے، کسانوں پر کیے گئے مقدمات واپس لینے اور کسانوں کو معاوضہ دیے جانے کے مطالبات کے ساتھ دہلی کے لیے مارچ کر رہے کسانوں نے مودی حکومت کی نیند اڑا دی ہے۔ہزاروں کی تعداد میں کسان شمبھو بارڈر ، ٹکری بارڈر اور غازی پور بارڈر پر دھرنا دیے ہوئے ہیں اور کسی صورت واپس جانے کو تیار نہیں ہیں ۔ یہی نہیں بلکہ جمعرات کو ٹول کو بند کرنے اور ٹرینوں کو روکنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے جس سے مزید حالات خراب ہونے کا امکان ہے۔ اس دوران بدھ کی شام کو کسانوں اور مودی حکومت کے درمیان آن لائن میٹنگ منعقد ہوئی جو بے نتیجہ رہی۔ ذرائع کے مطابق کسانوں سے ملاقات سے قبل وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیر زراعت ارجن منڈا نے کسانوں کے جاری احتجاج اور مسائل کو حل کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ سابق وزیر زراعت سنگھ نے منڈا کے ساتھ کسانوں کے مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔پہلے خبر یہ تھی کہ مرکزی وزراء ارجن منڈا، پیوش گوئل اور نتیا نند رائے بدھ کی شام احتجاجی کسان گروپوں کے لیڈروں کے ساتھ میٹنگ کریں گے تاکہ ان کے مطالبات بشمول فصلوں کی کم از کم امدادی قیمت(ایم ایس پی ) کی ضمانت پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ ملاقات ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ہوگی۔ دونوں ریاستوں کے درمیان شمبھو سرحد پر پنجاب کے کسانوں کو روکنے کے لیے ہریانہ پولیس کے ذریعہ آنسو گیس کے گولے داغے جانے کے پس منظر میں احتجاجی کسان گروپوں کے رہنماؤں کے ساتھ تینوں وزراء کی ملاقات کو بھی اہم سمجھا جا رہا تھا لیکن فی الحال کچھ بھی نہیں ہوا اور اب تیسرے دور کی میٹنگ جمعرات کو ہوگی ایسی خبر آئی ہے ۔ دوسری جانب مارچ کے دوسرے دن بھی حالات خراب ہی رہے بلکہ حالات اس وقت دھماکہ خیز ہو گئے جب ہریانہ پولیس کے ذریعہ شمبھو بارڈر پر آنسو گیس کے گولے کے ساتھ ساتھ ربر اور پلاسٹنگ کی گولیاں بھی چلائی گئیں ۔ اس کی وجہ سے کسان کافی ناراض ہیں ۔ علاوہ ازیں دہلی سے متصل تمام سرحدوں پر حفاظتی انتظامات سخت ہیں۔ دہلی پولیس کے علاوہ غازی پور، نوئیڈا، بادل پور، گروگرام، سنگھو اور ٹکری سرحدوں پر بھاری سیکورٹی فورسز موجود ہیں۔ کسانوں کے اعلان کے بعد کہ وہ دہلی کی طرف مارچ کریں گے اور پارلیمنٹ ہاؤس اور جنتر منتر پر احتجاج کریں گے، منگل کی صبح ہی نئی دہلی ضلع کی تمام 29 سرحدوں کو سیل کر دیا گیا تھا۔اس کے علاوہ پنجاب کے وزیر صحت اور خاندانی بہبود ڈاکٹر بلبیر سنگھ نے اعلان کیا کہ پولیس کارروائی میں زخمی ہونے والے کسانوں کے علاج کا سارا خرچ پنجاب حکومت برداشت کرے گی۔اس کے ساتھ ہی اپوزیشن کانگریس بھی پوری طرح سے کسانوں کے ساتھ کھڑی ہو گئی ہے ۔ مودی حکومت اور بی جے پی کے سامنے مشکل یہ ہے کہ عام انتخابات سر پر ہے۔ایک طرف بی جے پی پوری طاقت جھونک رہی ہے تو دوسری طرف راہل گاندھی بھارت جوڑو نیائے یاترا کے ذریعہ اپنی تیاری کر رہے ہیں ۔ غور طلب بات یہ ہے کہ کسانوں کی تحریک کے سبب عام لوگوں کے سامنے مشکل پیش آ رہی ہے ۔ دہلی دفتر تک پہنچامشکل ہو رہا ہے ۔












