ریاض:سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی نیابت کرتے ہوئے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کل بدھ کو سعودی مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کے نویں دور کی دوسری پارلیمانی سالانہ نشست کا افتتاحی شاہی خطاب پیش کریں گے۔مجلسِ شوریٰ کے سربراہ (اسپیکر) شیخ ڈاکٹر عبداللہ آل شیخ نے کہا کہ گزشتہ پارلیمانی سال میں شوریٰ کی سفارتی سرگرمیاں بھرپور رہیں اور اندرون و بیرون ملک کل 146 پروگرام منعقد کیے گئے، جن کے ذریعے پارلیمانی تعلقات کو فروغ دینے اور تجربات کے تبادلے کا موقع ملا۔انھوں نے کہا کہ شاہی خطاب ایک قومی سطح کا اہم موقع ہوتا ہے جس کا سب کو شدت سے انتظار رہتا ہے، کیونکہ اس میں ملک کی داخلی و خارجی پالیسی، مستقبل کی سمت اور ایسی واضح ہدایات شامل ہوتی ہیں جو شوریٰ کو قانون سازی اور نگرانی کے اپنے فرائض بہتر انداز میں ادا کرنے میں رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔عبداللہ آل شیخ کے مطابق شاہی خطاب مملکت کی ترقی اور تعمیر کے تسلسل کو اجاگر کرتا ہے، سعودی عرب کے علاقائی اور عالمی مقام کو نمایاں کرتا ہے اور ملک کے سیاسی و اقتصادی وزن کے ساتھ ساتھ اس کے انسانی پیغام کو بھی دنیا تک پہنچاتا ہے۔انھوں نے کہا کہ مجلسِ شوریٰ شاہی خطاب سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے اپنے فیصلوں اور اقدامات کو سعودی وژن 2030 کے اہداف کے مطابق ڈھالتی ہے تاکہ ملک میں جاری بڑی تبدیلیوں میں مؤثر کردار ادا کیا جا سکے۔












