امریکی نیوز ویب سائٹ ’’ ایکسیوس‘‘ نے پیر کے روز اطلاع دی ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کے دس سے زیادہ ارکان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے ایک خط پر دستخط کیے ہیں۔ ویب سائٹ نے مزید کہا کہ کم از کم ایک نمائندہ فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت میں قرارداد پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔غزہ میں سات اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے پس منظر میں ریاست فلسطین کو تسلیم کرنے کی تحریک زور پکڑ رہی ہے۔ بدھ کو فرانس، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور پرتگال سمیت 15 مغربی ممالک نے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے اور غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کی اجتماعی اپیل جاری کی۔ یہ اپیل فرانسیسی وزارت خارجہ نے اپنی ویب سائٹ پر شائع کی ہے۔یہ پیش رفت پیر اور منگل کو نیویارک میں منعقد ہونے والی "دو ریاستی حل کانفرنس” کے بعد ہوئی ہے۔ اس کانفرنس کی مشترکہ صدارت سعودی عرب اور فرانس نے کی تھی۔ کانفرنس میں دو ریاستی حل کو عملی جامہ پہنانے اور فلسطینی ریاست کو بین الاقوامی طور پر تسلیم کرنے کی حمایت کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا تاہم امریکہ اس کانفرنس سے غیر حاضر رہا تھا۔منگل کو برطانوی وزیر اعظم نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ان کا ملک اس صورت میں اگلے ستمبر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا اگر اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں خوفناک صورتحال کو ختم کرنے کے لیے بنیادی اقدامات نہیں کیے۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک آئندہ ستمبر میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران فلسطین کی ریاست کو تسلیم کر لے گا۔28 مئی 2024 کو سپین، ناروے اور آئرلینڈ نے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد اسی سال 5 جون کو سلووینیا نے ایسا ہی اعلان کردیا۔












