نئی دہلی: /سماج نیوز سروس :متھرا شاہی عیدگاہ کے سروے کرائے جانے کے معاملہ میں ہندو فریق کو اس وقت زوردار دھچکا لگا جب سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگا دی ۔سپریم کورٹ کے فیصلے سے جہاں مسلم فریقین میں خوشی پائی جا رہی ہے وہیں دوسری طرف ہندو فریقین کو مایوسی ہاتھ لگی ہے۔ علاوہ ازیں مقدمہ کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ ہائی کورٹ درخواستوں کے برقرار رہنے کے خلاف مسجد کے فریق کی درخواست کی سماعت کرے۔اس سے قبل سروے سے متعلق حکم الہ آباد ہائی کورٹ نے دیا تھا، جب کہ شاہی عیدگاہ کمیٹی نے متھرا کی ضلع عدالت سے تمام مقدمات کو ہائی کورٹ منتقل کرنے کی مخالفت کی ہے۔ اس معاملے پر اگلی سماعت اب 23 جنوری 2024 کو ہوگی۔ واضح ہو کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے 14 دسمبر 2023 کو متھرا کے شری کرشن جنم بھومی مندر کیس میں اپنا فیصلہ سنایا تھا۔اس وقت ہائی کورٹ نے متھرا میں شری کرشنا جنم بھومی مندر اور شاہی عیدگاہ مسجد کے تنازعہ کی متنازعہ جگہ پر سروے کو منظوری دے دی تھی۔ عدالت نے متنازعہ اراضی کا سروے ایڈووکیٹ کمشنر کے ذریعے کروانے کی مانگ کو بھی منظور کر لیا۔ اپنے فیصلے میں عدالت نے متھرا کے متنازعہ احاطے کا ایڈوکیٹ کمشنر کے ذریعے گیان واپی تنازعہ کی طرز پر سروے کرانے کا حکم دیا تھا۔ یہ عرضی شری کرشنا ویراجمان اور سات دیگر نے ایڈوکیٹ ہری شنکر جین، وشنو شنکر جین، پربھاش پانڈے اور دیوکی نندن کے ذریعے دائر کی تھی۔ جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھگوان کرشن کی جائے پیدائش اس مسجد کے نیچے موجود ہے جس کے کافی سارے شواہد موجود ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ وہ مسجد ہندو مندر ہے۔ہندو فریق کے وکیل وشنو شنکر جین کے مطابق ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہاں کمل کی شکل کا ستون ہے جو ہندو مندروں کی ایک خصوصیت ہے اور شیش ناگ کی شبیہ بھی ہے، جو ہندو دیوتاؤں میں سے ایک ہے جس نے پیدائش کے بعد بھگوان کی حفاظت کی تھی۔












