تہران:ایرانی خبر رساں ایجنسی "ارنا” کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی مسقط کا دورہ مکمل کرنے کے بعد دوبارہ پاکستان آئیں گے۔ اس سے قبل وہ ہفتے کے روز اسلام آباد سے روانہ ہوئے تھے جہاں پاکستان تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کی کوششیں کر رہا ہے۔ارنا” نے ہفتے کے روز اطلاع دی کہ وزیر خارجہ عمان کا دورہ مکمل کرنے کے بعد اور اپنے غیر ملکی دورے کی تیسری منزل یعنی روس روانگی سے قبل دوبارہ پاکستان کا دورہ کریں گے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیر خارجہ کے ہمراہ پاکستان آنے والے وفد کے بعض ارکان مشاورت اور جنگ کے خاتمے سے متعلق امور پر ضروری ہدایات حاصل کرنے کے لیے تہران واپس چلے گئے ہیں اور وہ اتوار کی رات اسلام آباد میں دوبارہ عراقچی کے ساتھ شامل ہو جائیں گے۔ایک ایرانی سفارت کار اور دیگر باخبر ذرائع نے وال اسٹریٹ جنرل کو بتایا ہے کہ اگر عراقچی ثالثوں کے ساتھ مشاورت کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ معاہدہ ممکن ہے تو آنے والے دنوں میں ایرانی اور امریکی وفود کی ملاقات ہو سکتی ہے۔عباس عراقچی ہفتے کے روز پاکستانی حکام سے بات چیت کے بعد اسلام آباد سے روانہ ہوئے تھے۔ "ارنا” کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلیٰ سطح کے پاکستانی حکام سے ملاقاتوں کے بعد اسلام آباد سے روانگی اختیار کی جہاں انہوں نے دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔بعد ازاں پاکستان سے مسقط پہنچنے پر عباس عراقچی نے اعلان کیا کہ ایران یہ دیکھنے کا منتظر ہے کہ آیا امریکہ جنگ کے سفارتی حل کے لیے سنجیدہ ہے یا نہیں۔انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھاکہ "پاکستان کا دورہ انتہائی سود مند رہا، ہم پاکستان کی نیک خواہشات اور خطے میں امن کی بحالی کے لیے اس کی برادرانہ کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں”۔ انہوں نے مزید کہاکہ "میں نے ایران پر مسلط جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے ایران کا فریم ورک پیش کر دیا ہے۔ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ آیا امریکہ واقعی سفارت کاری کے بارے میں سنجیدہ ہے”۔ایرانی وزیر نے پاکستان میں قیام کے دوران وزیراعظم شہباز شریف، اپنے ہم منصب اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتیں کیں۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دو خصوصی مندوبین اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا دورہ اسلام آباد منسوخ کر دیا ہے۔ یہ دورہ ایران کے ساتھ تصفیے کی سفارتی کوششوں کا حصہ تھا، تاہم صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ تہران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہو رہی ہے۔وائٹ ہاؤس کی جانب سے ویک اینڈ پر وٹکوف اور کشنر کے اسلام آباد جانے کے اعلان کے ایک روز بعد ٹرمپ نے ہفتے کو اس اقدام کی منسوخی کی تصدیق کی تھی۔انہوں نے صحافیوں سے گفتگو اور "ٹروتھ سوشل” پر اپنی پوسٹس میں کہاکہ "میں نے ان سے کہا کہ نہیں، آپ وہاں پہنچنے کے لیے 18 گھنٹے طویل سفر نہیں کریں گے۔ ہمارے پاس تمام کاغذات موجود ہیں۔ وہ جب چاہیں ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں، لیکن اب آپ محض بے مقصد بات چیت کے لیے 18 گھنٹے کے سفر نہیں کریں گے”۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایرانی بات کرنا چاہتے ہیں تو انہیں صرف ہمیں فون کرنے کی ضرورت ہے، ہم نے سفر اور کام میں بہت وقت ضائع کر دیا ہے۔ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ ایرانی قیادت جنگ کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے بعد منتشر ہو چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ "ان کی نام نہاد قیادت کے اندر شدید داخلی خلفشار اور الجھن کی کیفیت ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ ذمہ دار کون ہے، یہاں تک کہ وہ خود بھی نہیں جانتے”۔تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ وٹکوف اور کشنر کا پاکستان نہ جانا جنگ کی بحالی کی علامت نہیں ہے، ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ابھی اس بارے میں نہیں سوچا ہے۔ٹرمپ کے اس موقف کے بعد شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزیشکیان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور ثالثی کے لیے اپنے ملک کے عزم کا اعادہ کیا۔شہباز شریف نے ایکس پر لکھا کہ”میں نے عراقچی کی سربراہی میں وفد کے ذریعے ایران کے مسلسل تعاون کی تعریف کی”۔ انہوں نے اس عزم کو دہرایا کہ پاکستان ایک غیر جانبدار اور مخلص ثالث کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے انتھک کام کرتا رہے گا۔












