غزہ:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں حماس کے پاس موجود زندہ اسرائیلی قیدیوں کی تعداد کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔جمعے کے روز وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ حماس کے پاس موجود اسرائیلی قیدیوں میں زندہ بچنے والوں کی تعداد غالباً 20 سے کم ہے، جب کہ مجموعی طور پر حماس کے پاس 50 قیدی ہیں”۔ انھوں نے مزید کہا کہ "دو قیدی ممکنہ طور پر غزہ میں اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں”۔ٹرمپ نے بتایا کہ انھیں اندازہ تھا کہ جب قیدیوں کی تعداد 20 رہ جائے گی تو حماس سمجھوتا مسترد کرنا شروع کر دے گی۔ ان کے مطابق "اب حماس کسی بھی معاہدے کے بدلے صرف 10 قیدیوں کی رہائی کی پیشکش کر رہی ہے”۔ٹرمپ نے باقی قیدیوں کی رہائی کا سہرا بھی اپنے سر باندھا، اور کہا کہ ان قیدیوں کے اہل خانہ "اسرائیل کے غزہ پر قبضے کے منصوبے کی مخالفت نہیں کرتے”۔ امریکی صدر نے صحافیوں سے کہا "یہ صورت حال ختم ہونی چاہیے۔ یہ سراسر بلیک میلنگ ہے اور اس کا خاتمہ لازمی ہے۔ اگر اسرائیل نے فوری طور پر پورے غزہ پر قبضہ کر لیا تو قیدی زیادہ محفوظ ہوں گے”۔ٹرمپ نے مزید کہا حماس جانتی ہے کہ اگر وہ (قیدیوں کو) حوالے کر دے تو یہ شاید ان کی زندگی کا اختتام ہو”۔اسرائیلی قیدیوں کے امور کے سابق عسکری رابطہ کار گال ہیرش نے ٹرمپ کے بیان کو براہِ راست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے پاس ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے کہ مزید قیدی مارے گئے ہیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ اسرائیل کی معلومات کے مطابق 20 قیدی زندہ ہیں، جن میں سے دو کی حالت نہایت تشویش ناک ہے، جبکہ 28 قیدی ہلاک ہو چکے ہیں”۔اسرائیلی قیدیوں کے فورم نے بھی ٹرمپ کے بیان پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا "اگر وزیر برائے اسٹریٹجک امور رون ڈیرمر، جو نہ تو قیدیوں کے اہل خانہ سے بات کرتے ہیں اور نہ ان سے ملاقات کرتے ہیں، کوئی مختلف معلومات رکھتے ہیں تو سب سے پہلے یہ اہل خانہ کو بتانا چاہیے تھا”۔












