ایس اے ساگر
نئی دہلی ، سماج نیوز سروس:مدھیہ پردیش کے دھار واقع تاریخی بھوج شالہ معاملے پر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے جمعے کو کو ایسا فیصلہ سنایا، جس نے مسلم فریق کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ عدالت نے بھوج شالہ کو مندر قرار دیا اور ساتھ ہی ہندو فریق کو پوجا کرنے کا حق بھی دے دیا۔ یہ ہندو فریق کی بہت بڑی جیت تصور کی جا رہی ہے۔ عدالت نے کہا کہ ’’ہم نے اخذ کیا ہے، اس جگہ پر ہندوؤں کی پوجا کبھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ ہم یہ بھی درج کرتے ہیں کہ تاریخی ادب یہ ثابت کرتا ہے کہ متنازع علاقہ بھوج شالہ کی شکل میں پرمار خاندان کے راجہ بھوج سے منسلک سنکرت تعلیم کے مرکز کی شکل میں جانا جاتا تھا۔‘‘یہ فیصلہ آج ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے سنایا ہے۔ عدالت کے سامنے خاص طور سے یہ سوال تھا کہ کیا یہ ایک ہندو مندر (واگ دیوی مندر) ہے؟ یا پھر مسلم مسجد (کمال مولا مسجد) ہے؟ ہائی کورٹ نے کہا کہ ہم نے اے ایس آئی کے دستاویزات اور رپورٹ پر غور کیا، اور اس اصول پر بھی کہ آثار قدیمہ ایک سائنس ہے۔ ہم اے ایس آئی کے نتائج پر بھروسہ کرتے ہیں۔ عدالت کے مطابق یہ ایک محفوظ عمارت ہے، یہ بالکل واضح ہے۔ اے ایس آئی کے پاس نگرانی کا پورا کنٹرول ہے اور تحفظ کا حق بھی ہے۔غورطلب ہے کہ جب یہ فیصلہ صادر ہوا، اس وقت بھوج شالہ (کمال مولا مسجد) میں نمازِ جمعہ ادا کی جا رہی تھی۔ چونکہ آج جمعہ کا دن ہے، اس لیے مقرر کردہ اصول کے مطابق مسلم طبقہ بھوج شالہ میں نماز کر رہا تھا۔ سخت سیکورٹی کے درمیان پُرامن انداز میں نماز جمعہ مکمل ہوئی اور نمازی حضرات گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ عدالت کے فیصلہ سے قبل ہی شہر کے اہم مقامات پر ناکہ بندی کر دی گئی تھی۔ سوشل میڈیا پر بھی نظر رکھی جا رہی تھی تاکہ کوئی افواہ گشت نہ کرے۔ تقریباً 1000 پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کی گئی اور خبروں کے مطابق کچھ شر پسند عناصر کی گرفتاری بھی ہوئی۔ عدالتی کارروائی کے ہموار انعقاد کو یقینی بنانے اور کسی بھی ممکنہ کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے کیلئے، پولس نے بھوج شالہ کمپلیکس اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں حفاظتی انتظامات کو کافی سخت کردیئے تھے۔مسلم فریق کی نمائندگی کرتے ہوئے، مولانا کمال الدین ویلفیئر سوسائٹی کی جانب سے ایڈووکیٹ توصیف وارثی نے عدالت میں دلیل دی کہ، "متعلقہ جگہ پر کسی مندر، یا خاص طور پر سرسوتی مندر کے وجود کے بارے میں کبھی کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ مزید برآں، مسجد کی مسماری یا اس کے مساوی جگہ کی تعمیر کے دعووں کو ثابت کرنے کیلئے قطعی طور پر کوئی ثبوت نہیں ہے۔” انہوں نے مختلف دستاویزات پیش کیں جن میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کی رپورٹیں اور مورخین کے تحریری دلائل شامل ہیں۔ لندن یونیورسٹی سمیت دیگر غیر ملکی محققین کی رپورٹس اس میں شامل ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ مولانا کمال الدین چشتی (رحمۃ اللہ علیہ) نے 1305 میں مسجد کی تعمیر کا آغاز کیا، یہ منصوبہ بالآخر 1360 میں مکمل ہوا۔معاملے پر سماعت کے دوران عدالت نے مسلم فریق کیلئے یہ بات ضرور کہی کہ وہ مسجد کی زمین کیلئے درخواست کر سکتا ہے۔ ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ اے ایس آئی ایکٹ کے جائز التزامات کیساتھ ساتھ ایودھیا معاملہ میں قائم مثال کی بنیاد پر، اور قدیم آثار پر مبنی ثبوتوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے عدالت اے ایس آئی کے ذریعہ کیے گئے ایسے کثیر موضوعاتی اسٹڈی کے نتائج اور ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 25 و 26 کے تحت بنیادی حقوق پر تحفظاتی طور سے بھروسہ کر سکتی ہے۔واضح رہے کہ بھوج شالہ معاملے میں مجموعی طور پر 3 فریقین شامل ہیں۔ ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ یہ گیارہویں صدی میں راجہ بھوج کے ذریعہ تیار سرسوتی مندر اور گروکل ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ یہاں مسلم سرگرمیوں پر روک لگائی جائے اور ہندوؤں کو مستقل پوجا کرنے کا مکمل حق دیا جائے۔ مسلم فریق (مولانا کمال الدین ویلفیئر سوسائٹی) کا کہنا ہے کہ یہ صدیوں سے کمال مولا مسجد رہی ہے۔ انھوں نے اے ایس آئی کی سروے رپورٹ کو ’جانبدار‘ بتایا اور دلیل دی ہے کہ سروے کے دوران شفافیت نہیں رکھی گئی۔ تیسرا فریق جین طبقہ سے ہے۔ حال ہی میں جین سماج نے بھی ایک مداخلت عرضی داخل کی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ بنیادی طور سے ایک جین گروکل اور مندر تھا، اور وہاں ملی واگ دیوی کی مورتی دراصل ’جین یکشنی امبیکا‘ ہے۔ کافی عرصے سے پورے ملک اور ریاست کی نظریں ہائی کورٹ کے فیصلے پر تھیں۔ اس سے پہلے اندور ہائی کورٹ نے 12 مئی کو آخری سماعت کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔ اندور ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے 15 مئی کو فیصلہ سنایا تھا۔موصولہ اطلاعات کے مطابق مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اندور بنچ دھار بھوج شالا-کمال مولا مسجد معاملے پر آج جمعہ 15 مئی کو اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کمال مولا مسجد کو مندر قرار دیا ہے۔ ہائی کورٹ نے 12 مئی کو حتمی سماعت کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ ہندو برادری دھار کی بھوج شالا کو دیوی سرسوتی کیلئے وقف ایک مندر مانتی ہے، جب کہ مسلمان اس یادگار کو کمال مولا مسجد کہتے ہیں۔ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے آج اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کمپلیکس کو ہندو مندر قراردے دیاہے۔ ہائی کورٹ نے یہ حکم ہندو فریق کی طرف سے دائر درخواست پر جاری کیاہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ بھوج شالا کی اصل شکل سنسکرت کی تعلیم کا مرکز تھی۔ عدالت نے اپنا فیصلہ ای ایس آئی سروے اور سائنسی مطالعات پر مبنی کیاہے۔ ہائی کورٹ نے کہا ہےکہ آثار قدیمہ ایک سائنس ہے اور عدالت سائنسی نتائج پر بھروسہ کر سکتی ہے۔












