نئی دہلی، (یو این آئی) مردوں کے 65 کلوگرام زمرے میں دنیا کے نمبر ون ریسلر سجیت کلکل کا ماننا ہے کہ اگر کشتی کو مناسب تعاون اور عوامی پذیرائی ملے، تو ہندوستان اس کھیل میں دنیا کی ایک بڑی طاقت بن سکتا ہے۔یو این آئی سے بات کرتے ہوئے ایشیائی کشتی چیمپئن شپ میں حال ہی میں گولڈ میڈل جیتنے والے سوجیت نے کہا، "پہلوانوں کو خاص طور پر ابتدائی مرحلے میں مناسب حمایت اور عوامی پذیرائی نہیں ملتی، اسی وجہ سے کئی نوجوان کھلاڑی جلد ہی یہ کھیل چھوڑ دیتے ہیں۔ اگر کشتی کو بھی کرکٹ جیسی حمایت ملے تو ہم عالمی طاقت بن سکتے ہیں۔”2026 کی ایشیائی کشتی چیمپئن شپ 6 سے 12 اپریل تک کرغزستان کے شہر بشکیک میں منعقد ہوئی، جہاں ہندوستان نے 17 تمغے جیتے، جن میں دو طلائی تمغے شامل تھےجس میں ایک سوجیت کلکل (65 کلوگرام) اور دوسرا ابھیمنیو منڈوال (70 کلوگرام) نے حاصل کیا تھا۔کشتی کے روایتی کھیل نے گزشتہ پانچ اولمپکس میں بھی ہندوستان کو میڈلز دلائے ہیں جن میں 2024 میں امن سہراوت، 2020 میں روی دہیا اور بجرنگ پونیا، 2016 میں ساکشی ملک، 2012 میں سشیل کمار اور یوگیشور دت، جبکہ 2008 میں سشیل کمار شامل ہیں۔حصار سے تعلق رکھنے والے 23 سالہ سوجیت اس سال ہونے والی عالمی چیمپئن شپ اور ایشین گیمز میں شرکت کے لیے پُرجوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی چیمپئن شپ سب سے سخت مقابلہ ہوتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ”عالمی چیمپئن شپ مقابلے کے لحاظ سے اولمپکس سے بھی زیادہ مشکل ہوتی ہے، کیونکہ اولمپکس میں کوٹہ سسٹم کی وجہ سے کئی بہترین پہلوان شرکت نہیں کر پاتے۔”2026 کے ایشین گیمز جاپان کے آئیچی اور ناگویا میں 19 ستمبر سے 4 اکتوبر تک جبکہ عالمی کشتی چیمپئن شپ بحرین کے شہر منامہ میں 24 اکتوبر سے یکم نومبر تک منعقد ہوگی۔سوجیت نے بتایا کہ وہ جلد ہی بیرون ملک تربیت حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔23 سالہ پہلوان نے بتایا کہ وہ جلد ہی بیرون ملک تربیت حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ "بیرون ملک تربیت یہاں کی ٹریننگ سے کافی مختلف ہے، اور پہلوانوں کو نئی مہارتیں سیکھنے کے لیے باہر جانا چاہیے۔ شاید اس بار میں جاپان، روس یا امریکہ جاؤں، جس کا فیصلہ میرے کوچ کریں گے۔ ایک کھلاڑی کو مختلف قسم کے ‘حریفوں اور مختلف حکمت عملیوں کا تجربہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔”انہوں نے حکومت کی ٹارگٹ اولمپکس پوڈیم اسکیم (ٹوپس ) کے تحت ملنے والی سہولتوں کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ "میں روس، جاپان اور منگولیا میں تربیت حاصل کر چکا ہوں، جو ٹوپس اسکیم کے باعث ممکن ہوا۔ چاہے ایکسپوژر ٹرپس ہوں، فزیوتھراپی یا دیگر ضروریات، یہ اسکیم بہت مددگار ثابت ہوئی ہے۔”اپنی صلاحیتوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے سوجیت نے کہا کہ ان کا دفاع مضبوط ہے اور وہ اب اپنے حملہ آور کھیل اور طاقت میں اضافہ کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ "میرا دفاع میری مضبوطی ہے، اور میں اب حملے کے پہلوؤں کو بہتر بنانے اور اپنی طاقت بڑھانے پر توجہ دے رہا ہوں۔”وہ اس وقت اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (سائی) کے سونی پت سینٹر اور رائے پور اسپورٹس اکیڈمی میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔انہوں نے نوجوان پہلوانوں کو مشورہ دیا کہ اگر وہ اس کھیل میں کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بہت کم عمر سے آغاز کریں۔انہیں 5 یا 6 سال کی عمر سے ہی شروع کرنا چاہیے، کیونکہ 15 سال کی عمر میں آغاز کرنا بہت دیر ہو جاتی ہے۔ کشتی ایک ایسا کھیل ہے جسے سیکھنے اور اس میں کامیابی حاصل کرنے میں کافی وقت لگتا ہے، جبکہ کھلاڑی کا عروج بھی مختصر ہوتا ہے کیونکہ یہ چوٹوں سے بھرپور کھیل ہے۔” سوجیت نے اپنی کامیابی کا سہرا اپنے والد دیانند کو دیا، جو خود سابق قومی سطح کے پہلوان اور اب کوچ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "سارا کریڈٹ انہی کو جاتا ہے، ان کا خواب ہے کہ میں اولمپک گولڈ جیتوں، اور میں نے ہمیشہ ان کی رہنمائی پر عمل کیا ہے۔”












