مغربی بنگال میں ٹی ایم سی لیڈر ممتا بنرجی ، پنجاب میں عام آدمی پارٹی سی ایم بھگونت مان کے بعد بہار میں بھی انڈیا اتحاد بکھر گیا ،نتیش کمار بی جے پی کے ساتھ ملکر بنائیں گے بہار میں نئی حکومت ؟یوپی میں بھی ابھی تصویر صاف نہیں
بہار کی بدلتی سیاسی تصویر کے بعد انڈیا اتحاد
نتیش کمار کو روک پانے میں کانگریس ناکام رہی
ملکارجن کھرگے کیا پی ایم چہرہ بنناچاہتے تھے ؟
فون کرنے میں کھرگے نے اتنی تاخیر کیوں کر دی ؟
کیا کانگریس اتر پردیش میں انڈیا اتحاد کو بچا پائے گی ؟
نئی دہلی :عام انتخابات 2024؍سے پہلے ہی اپوزیشن کا انڈیا اتحاد بکھرسا گیا ہے ۔کانگریس بے وقت کی راگنی میں لگی رہی۔ ایک طرف کانگریس بھارت جوڑو نیائے یاترا میں مصروف تھی اور دوسری طرف انڈیا اتحاد پارہ پارہ ہو گیا۔بہار میں انڈیا اتحاد کو بڑا دھچکا لگ رہاہے۔نتیش کمار کا انڈیا اتحاد سے الگ ہونا اور این ڈی اے میں شامل ہونا یقینا اپوزیشن کے لیے بڑا سیاسی سیٹ بیک ہوگا ۔ غور طلب ہے کہ مغربی بنگال میں ٹی ایم سی لیڈر اور وزیر اعلی ممتا بنرجی نے پہلے ہی اپنا رخ صاف کر دیا تھا اور اس کے لیے سیدھے طور پر کانگریس ہی قصوروار نظر آ رہی ہے کیونکہ وہ اپنے مقامی لیڈر ادھیر رنجن چودھری کو نہیں روک سکی ،ایک طرف کانگریس کہتی رہی کہ ممتا کے بغیر انڈیا اتحاد کا تصور نہیں کیا جا سکتا اور دوسری طرف ادھیر رنجن چودھری بنگال میں ممتاحکومت سے استعفیٰ مانگ رہے تھے ۔ اس کے بعد کانگریس پنجاب میں عام آدمی پارٹی کو نہیں سنبھال سکی ۔پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان نے بھی اعلان کر دیا کہ وہ تنہا انتخابی میدان میں اتریں گے ۔سوال یہ ہے کہ کیا عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال کی مرضی کے بغیر بھگونت مان نے یہ فیصلہ لیا ؟ اس فیصلے کے بعد کانگریس کی طرف سے کیا پہل کی گئی ؟ اب بہار کی تصویر سامنے ہے ۔اب جب کہ معاملات ہاتھ سے نکل گئے ہیں تب خبر ہے کہ کانگریس صدر ملکاارجن کھرگے نتیش کمار کو فون کر رہے ہیں اور وہ فون نہیں اٹھا رہے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ فون کرنے میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی ؟ خبر تو کئی دنوں سے گرم تھی۔سوال یہ بھی ہے کہ جب انڈیا اتحاد کی ریلی کا وقت تھا تو تنہا کانگریس بھارت جوڑو یاترا کیوں لے کر نکلی ؟ تقریبا یہ بات طے ہو چکی ہے کہ اتوار کو نتیش کمار مہاگٹھ بندھن چھوڑکر بی جے پی سے ہاتھ ملاتے ہوئے پھر این ڈی اے کا حصہ ہوں گے اور نئی حکومت تشکیل دیں گے ۔یعنی اب عام انتخابات بی جے پی اور جے ڈی یو مل کر لڑیں گی ۔سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بہار کی اس سیاسی صورت حال کے لیے براہ راست کانگریس کے صدر ملکا ارجن کھرگے ذمہ دار ہیں کیونکہ ان کے اندر وزیر اعظم کا چہرہ بننے کی خواہش پیدا ہو چکی ہے ۔ کانگریس کے صدر رہتے ہوئے کھرگے نے راجیہ سبھا میں اپوزیشن کا عہدہ نہیں چھوڑا اور اب وہ پی ایم امیدوار بھی بننے کی خواہش پال چکے ہیں جس کی وجہ سے یہ حالات پیدا ہوئے ہیں ۔ علاوہ ازیں بہار میں جواب سیاسی تصویر ابھری ہے اس نے واضح کر دیا کہ اپوزیشن کے درمیان جو طے ہوا تھا اس پر عمل نہیں ہو سکا ۔ ایک کے سامنے ایک امیدوار کا منصوبہ چکنا چور ہو چکا ہے ۔اتر پردیش میں بھی انڈیا اتحاد کا کیا ہوگا ابھی کچھ کہہ پانا مشکل ہے ۔ حالانکہ خبر یہ آئی ہے کہ سماجوادی پارٹی اور کانگریس کے درمیان سیٹوں پر بات فائنل ہو گئی۔ کل 80؍سیٹوں میں 11؍سیٹیں کانگریس کو دی جائیں گی جبکہ 7؍سیٹیں آر ایل ڈی کو دی جائیں گی اور باقی سیٹوں پر سماجوادی پارٹی خود میدان میں اترے گی۔ سماجوادی پارٹی کے صدر اور سابق وزیر اعلی اتر پردیش اکھلیش یادو نے یہ ظاہر بھی کر دیا لیکن کانگریس کی طرف سے جب کوئی جواب نہیں آیا تو پھر تذبذب کی خبریں چلنے لگیں ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر چار بڑے صوبوں کی یہ تصویر ہے تو پھر انڈیا اتحاد کا کیا مطلب ہے ؟












