اتر پردیش اسمبلی میں جاری بجٹ اجلاس میں وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کا خطاب ، کہا بھارت کے اندر لوک آستھا کی توہین ہو اور اکثریتی طبقہ گڑگڑائے ایسا دنیا میں کہیں نہیں ہوتا ،ایودھیا میں جووعدہ کیا وہ پورا کیا،اپوزیشن پوری طرح خاموش
یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنے خطاب گیان واپی کی سچائی بتائی
’’جب لوگوں نے ایودھیا کا جشن دیکھا تو نندی بابا نے کہا کہ بھائی ہم کیوں انتظار کریں؟ انتظار کیے بغیر، رات کو بیریکیڈ توڑ دیں۔ اب ہمارا کرشن کنہیا کہاں مانے گا؟‘‘
لکھنؤ :اتر پردیش اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے بطور ایوان لیڈر خطاب کیا لیکن ترقیاتی امور کی بجائے سی ایم کی پوری تقریر مندروں پر سمٹ کر رہ گئی ۔ سیکولر آئین اور پلیسز آف ورشپ ایکٹ 1991؍کو آئینہ دکھاتے ہوئے انھوں نے واضح طور پر اعلان کر دیا ہے کہ انھیں ہر حال میں اجودھیا کی طرح اب کاشی میں گیان واپی اور متھرا میں شاہی عیدگاہ چاہئے ۔ انھوں نے اجودھیا سے رامائن کا ذکر کرتے ہوئے مہابھارت کا ذکر چھیڑ دیا اور کہا کہ پانڈو نے پہلے آدھا آدھا حق مانگ لیکن بعد میں کہا کہ اچھا صرف پانچ گائوں ہمیں دے دیے جائیں اور ہم تو صرف تین جگہ مانگ رہے ہیں ۔ وہ کاشی اور متھرا کی بات کر رہے تھے ۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ ایودھیا کی بات ہوتی ہے تو ہمیں پانڈوئوں کی بات یاد آتی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ کرشن دوریودھن کے پاس گئے تھے اور کہا تھا کہ انھیں پانچ گرام دے دو اور اس کی ساری زمین اپنے پاس رکھ لو لیکن دریودھن وہ بھی نہ دے سکا۔ یہاں تک کہ اس نے بھگوان کرشن کو یرغمال بنانے کی کوشش کی۔ یوگی نے کہا کہ ایودھیا کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ کاشی کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ متھرا کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ پانڈووں نے بھی صرف پانچ گرام مانگے تھے لیکن یہاں کچھ معاشرہ، یہاں آستھا کی بنیاد پر صرف تین کی بات کی جا رہی ہے۔ ان تینوں کے لیے بھی کیونکہ وہ خاص جگہیں ہیں۔ یہ ایشور کے اوتار کی سرزمین ہیں۔ یہ عام بات نہیں ہے لیکن ایک اصرار ہے۔ جب وہ اصرار سیاسی ہونے لگتا ہے تو وہاں سے پھر تنازعہ کی صورتحال پیدا ہونے لگتی ہے۔یوگی نے کہا کہ ہندوستان میں لوگوں کے عقیدے کی توہین کی جانی چاہئے اور اکثریتی طبقہ کو بھیک مانگنی چاہئے۔ ایسا دنیا میں کہیں نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جو کام ہو رہا ہے وہ آزاد ہندوستان میں پہلے شروع ہو جانا چاہئے تھا۔ یہ 1947 میں ہی ہو جانا چاہیے تھا۔ ایودھیا کاشی اور متھرا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یوگی نے کہا، ‘ہم نے صرف تین جگہیں مانگی ہیں۔ دوسری جگہوں کے بارے میں کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ جب لوگوں نے ایودھیا کا جشن دیکھا تو نندی بابا نے کہا کہ بھائی ہم کیوں انتظار کریں؟ انتظار کیے بغیر، رات کو بیریکیڈ توڑ دیں۔ اب ہمارا کرشن کنہیا کہاں مانے گا؟انھوں نے کہا کہ بیرونی حملہ آوروں نے نہ صرف اس ملک کے اندر کی دولت لوٹی ہے۔ اس ملک کی آستھا کو بھی پامال کیا گیا۔ آزادی کے بعد ان حملہ آوروں کو تسبیح دینے کی مذموم حرکت کی گئی۔ اپنے ووٹ بینک کے لیے۔ یوگی نے کہا کہ دوریودھن نے کہا تھا کہ وہ سوئی کی نوک کے برابر بھی زمین نہیں دیں گے۔ پھر مہابھارت ہونا ہی تھا۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ کوروا کی طرف ختم ہو گیا ہے۔بہر حال یوگی آدتیہ ناتھ نے واضح طور پر اعلان کر دیا ہے کہ اب ملک کے مسلمانوں کو اجودھیا کی طرح کاشی اور متھرا کی مسجدیں بھی چھوڑ دینی چاہئے اور اگر ایسا نہیں ہوا تو انھوں نے مہابھارت کا ذکر کیا ہے اور یہ بھی بتایا کہ دریودھن کے ساتھ کیا ہوا ۔ اس خطاب کے بعد اپوزیشن کی جانب سے رد عمل آنے لگے ہیں لیکن اسمبلی میں پوری طرح خاموشی رہی ۔












