ڈھاکہ۔ ایم این این۔ بنگلہ دیش میں بڑھتی ہوئی نوجوانوں کی بے روزگاری لاکھوں نوجوانوں کو بیرون ملک بہتر مستقبل کی تلاش میں خطرناک اور غیر قانونی راستے اختیار کرنے پر مجبور کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں بہت سے افراد انسانی اسمگلروں، جنگی بھرتیوں اور سمندری حادثات کا شکار ہو رہے ہیں۔بنگلہ دیش کے معروف اخبار دی ڈیلی اسٹار میں شائع ہونے والے ایک تجزیاتی مضمون کے مطابق، ملک میں روزگار کے محدود مواقع اور معاشی غیر یقینی صورتحال نے نوجوانوں میں شدید مایوسی پیدا کر دی ہے۔ یہی مایوسی انہیں یورپ جانے کے لیے بحیرہ روم کے خطرناک راستوں یا روس جیسے ممالک میں مشکوک ملازمتوں کی طرف دھکیل رہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں کشور گنج کے 28 سالہ محمد ریاض رشید روس اور یوکرین کی سرحد کے قریب ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے۔ انہیں روس میں ایک عام ملازمت کا وعدہ کر کے لے جایا گیا تھا، مگر بعد میں وہ روسی فوج میں شامل کر دیے گئے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق فروری 2026 تک کم از کم 104 بنگلہ دیشی شہری روسی فوج میں بھرتی کیے جا چکے تھے، جن میں سے کم از کم 34 ہلاک ہو چکے ہیں۔ مضمون کے مطابق، 2025 میں روس نے بنگلہ دیشی شہریوں کو تقریباً 9,300 ورک پرمٹ جاری کیے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تین گنا سے زیادہ تھے۔ اسی دوران ہزاروں نوجوان غیر قانونی طور پر یورپ پہنچنے کی کوشش میں سمندر کے خطرناک سفر پر نکلے۔ 2025 میں 24,000 سے زائد بنگلہ دیشی غیر قانونی راستوں سے یورپ پہنچے، جن میں سے بہت سے راستے میں ہلاک یا لاپتا ہو گئے۔بنگلہ دیش بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق 2024 میں نوجوانوں (15 سے 29 سال( میں بے روزگاری کی شرح 8.07 فیصد رہی، جبکہ 20.3 فیصد نوجوان نہ تعلیم میں تھے، نہ روزگار میں اور نہ کسی تربیتی پروگرام کا حصہ تھے۔ ملک میں بے روزگار افراد کی بڑی تعداد اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو تعلیمی نظام اور لیبر مارکیٹ کے درمیان گہرے عدم توازن کو ظاہر کرتا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق، یہ بحران صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی سانحہ بنتا جا رہا ہے۔ خاندان اپنی زمینیں فروخت کر کے اور قرض لے کر ایجنٹوں کو لاکھوں ٹکہ ادا کرتے ہیں، اس امید میں کہ ان کے بچے بیرون ملک جا کر بہتر زندگی حاصل کریں گے۔












