جمہوریت کی آواز دبانے کے لیے بی جے پی کا سیاسی تماشہ!
اپوزیشن کی ریلی میں رخنہ ڈالنے کی کوشش، 1984 کے زخموں کو سیاسی مفاد کے لیے کریدنے کا حربہ اور فلاپ مارچ نے بی جے پی کی بوکھلاہٹ بے نقاب کردی
دہلی کی سڑکوں پر یکم نومبر کو جو سیاسی منظرنامہ دیکھنے کو ملا، وہ محض دو سیاسی جماعتوں کے احتجاج کا معاملہ نہیں تھا بلکہ جمہوریت کے دو مختلف تصورات کے درمیان ٹکراؤ کی ایک تصویر بھی تھا۔ ایک طرف INDIA اتحاد کے رہنما ووٹر لسٹوں میں مبینہ دھاندلی، ووٹروں کے نام حذف کیے جانے اور الیکشن کمیشن کی جانبداری کے خلاف رام لیلا میدان میں جمع ہوئے تو دوسری طرف بی جے پی نے اسی دن 1984 کے سکھ مخالف فسادات کی یاد میں اپنا مارچ نکالنے کا اعلان کردیا۔ سوال یہ نہیں کہ 1984 کے فسادات کے متاثرین کو انصاف ملنا چاہیے یا نہیں، اس پر کسی کو اختلاف نہیں ہوسکتا۔ سوال یہ ہے کہ جب اپوزیشن ایک اہم آئینی مسئلے پر اپنی آواز بلند کرنے کے لیے سڑکوں پر اتر رہی تھی، عین اسی وقت بی جے پی کو اپنا سیاسی مارچ نکالنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟
سیاسی احتجاج کے لیے ہر جماعت کو جمہوری حق حاصل ہے، لیکن احتجاج کی تاریخ اور موقع کا انتخاب بھی سیاسی نیت کا پتہ دیتا ہے۔ بی جے پی کا یہ اقدام محض اتفاق نہیں دکھائی دیتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اپوزیشن کی ریلی کی سیاسی اہمیت کم کرنے، اس کے پیغام کو دوسری سمت موڑنے اور میڈیا کی توجہ تقسیم کرنے کے لیے ایک متوازی سرگرمی کا اہتمام کیا گیا۔ یہ دراصل سیاسی مقابلے سے زیادہ سیاسی رخنہ اندازی کی کوشش تھی۔
اپوزیشن کا بنیادی سوال انتہائی اہم ہے۔ اگر ووٹر لسٹوں میں واقعی بڑے پیمانے پر گڑبڑیاں ہوئی ہیں، اگر کروڑوں ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کے الزامات درست ہیں اور اگر الیکشن کمیشن کے فیصلوں پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں تو حکومت اور الیکشن کمیشن کو ان کا جواب دینا چاہیے۔ جمہوریت میں ووٹ محض ایک کاغذی حق نہیں بلکہ اقتدار کی تشکیل کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اس حق پر شبہ پیدا ہونا پورے انتخابی نظام کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے۔ اپوزیشن کی ریلی کو سیاسی ڈرامہ قرار دے کر مسترد کرنے کے بجائے ان سوالات کا جواب دینا ضروری تھا۔ لیکن بی جے پی نے جواب دینے کے بجائے ایک ایسا سیاسی محاذ کھول دیا جس سے اصل مسئلے سے توجہ ہٹائی جاسکے۔ 1984 کے سکھ مخالف فسادات ہندوستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہیں۔ ان فسادات میں بے گناہ انسانوں کا قتل ہوا، خاندان اجڑے اور متاثرین کو برسوں انصاف کے لیے دربدر ہونا پڑا۔ ان کے زخموں پر مرہم رکھنا پورے ملک کی ذمہ داری ہے۔ مگر کیا ان مظلوموں کے درد کو بھی سیاسی مقابلہ آرائی کا ہتھیار بنا دینا چاہیے؟ کیا انصاف کی جدوجہد کو کسی دوسری جماعت کی ریلی کا جواب بنانے کے لیے استعمال کرنا متاثرین کے ساتھ انصاف ہے؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ بی جے پی نے اپوزیشن کے احتجاج کو ناکام بنانے کے لیے جس سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہا، اس کا اپنا مارچ عوامی توقعات کے مطابق کوئی بڑا اثر پیدا نہیں کرسکا۔ جس ریلی کو بڑے سیاسی جواب اور طاقت کے مظاہرے کے طور پر پیش کیا جارہا تھا، وہ ایک فلاپ مارچ ثابت ہوئی۔ بڑے بڑے ناموں کی موجودگی اور انتظامی تیاریوں کے باوجود عوامی شرکت کا وہ تاثر پیدا نہیں ہوسکا جس کی توقع بی جے پی نے باندھی تھی۔ اس کے برعکس اپوزیشن کی ریلی نے انتخابی شفافیت اور الیکشن کمیشن کی جواب دہی کے سوال کو ایک بار پھر قومی بحث کے مرکز میں لاکھڑا کیا۔
یہاں ایک بنیادی حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جمہوریت میں حکومت کی کامیابی کا معیار یہ نہیں کہ وہ اپوزیشن کے احتجاج کے مقابلے میں کتنے مارچ نکال سکتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ عوام کے سوالوں کا کتنا شفاف جواب دیتی ہے۔ اگر اپوزیشن غلط ہے تو حقائق سامنے لائے جائیں، اگر اس کے الزامات بے بنیاد ہیں تو دستاویزی ثبوت پیش کیے جائیں۔ مگر احتجاج کے جواب میں دوسرا احتجاج کھڑا کردینا کسی آئینی ادارے کی ساکھ بحال نہیں کرسکتا۔
الیکشن کمیشن کوئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک آئینی ادارہ ہے۔ اس کی غیر جانب داری پر سوال اٹھنا بھی تشویش ناک ہے اور ان سوالات کو دبانے کی کوشش کرنا اس سے زیادہ تشویش ناک۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اپوزیشن کی آواز کو سیاسی ہنگامے میں گم کیا جاسکتا ہے، لیکن اس کے اٹھائے گئے سوالات کو ہمیشہ کے لیے دفن نہیں کیا جاسکتا۔
دہلی کا یہ سیاسی منظرنامہ ایک بار پھر بتا گیا کہ اقتدار جب سوالوں کا جواب دینے کے بجائے سوال اٹھانے والوں سے مقابلہ کرنے لگتا ہے تو جمہوریت کمزور ہوتی ہے۔ بی جے پی کو اپوزیشن کی ریلی کا سیاسی جواب دینے کے بجائے ووٹر لسٹوں سے متعلق الزامات کا جواب دینا چاہیے تھا۔ کیونکہ جمہوریت میں اصل طاقت جلسوں کی تعداد، نعروں کی گونج اور سڑکوں پر جمع ہونے والے ہجوم سے نہیں بلکہ عوام کے ووٹ کی حرمت اور آئینی اداروں کی غیر جانب داری سے طے ہوتی ہے۔