
پٹنہ (پریس ریلیز) رمزؔ عظیم آبادی کا شمار ان با کمال شاعروںمیں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی بے پناہ شاعرانہ قدرت اور خداداد صلاحیت کی بنا پر صفِ اوّل کے شعراء میں اپنی جگہ مخصوص کرلی اور پورے ملک میں بہار کی شاعرانہ عظمت کا سکّہ جمادیا۔رمزؔ انتہائی غریب گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ رسمی درس و تدریس سے انہیں برائے نام واسطہ رہا لیکن ان کا ذاتی مطالعہ بہت ہی وسیع اور گہرا تھا۔ زبان و بیان پر انہیں اتنی مہارت اور قدرت حاصل تھی کہ ان کی شاعری دانشوارانہ فکر و فن کا امتزاج بن گئی۔ رمز نظم اور غزل دونوںپر یکساں قدرت رکھتے تھے مگر نظم نگاری میں انہیں جو مہارت اور امتیازی شان حاصل تھی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ان خیالات کا اظہار محکمہ کابینہ سکریٹریٹ ،اردو ڈائرکٹوریٹ کے زیر اہتمام منعقد فنیشور ناتھ رینو ہندی بھون واقع آڈیٹوریم میں قاضی عبد الودود یاد گاری تقریب و بز م سخن پروگرام میں دانشورانِ اردو نے اپنے مقالہ میں مشترکہ طورپر کیا۔ تقریب کا آغاز شمع افروزی کے ذریعہ ہوا۔ تقریب کی صدارت پروفیسرعلیم اللہ حالی،سابق صدر شعبہ اردو،مگدھ یونیورسٹی، گیانے کی۔ صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے جناب حالی نے رمز عظیم آبادی کی شخصیت اور ان کے کارنامے پر مختصر مگر جامع باتیں کہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کی شخصیت اور کارناموں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شعری معنویت ،جامعیت اور اثر انگیزی کے لئے موضوع سے زیادہ لہجہ اہمیت رکھتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ رمز عظیم آبادی کا دور اس وقت کا تھا جب ترقی پسند تحریک زوال کی طرف روبہ گامزن تھی۔ لیکن جدید یت کے دور میں رمز عظیم آبادی نے ترقی پسند تحریک کے حصہ بنے اور اردو شاعری و ادب کو آگے بڑھایا۔اس سے قبل استقبالیہ و تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے اردو ڈائرکٹوریٹ کے فعال ڈائرکٹر ایس ایم پرویز عالم نے تقریب میں تشریف لائے تمام مہمانان، دانشورانِ اردو ،مُحِبّانِ اردو زبان و ادب اور شائقین شعر و سخن ، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندگان اور اس ہال میں موجود خواتین و حضرات کا تہہ دل سے استقبال کیا۔ابتدائی کلمات پیش کرتے ہوئے ڈائرکٹر موصوف نے کہا کہ ریاستِ بہار کی جانب سے دوسری سرکاری زبان اردو کی ترقی و ترویج اور عوامی سطح پر اس کی مقبولیت میں اضافہ کے لئے عزت مآب وزیر اعلیٰ بہار کی سرپرستی میں حکومتِ بہار کی جانب سے بہت سے اہم ،مفید اور کامیاب منصوبے چلائے جا رہے ہیں۔ان منصوبوں کا فائدہ براہِ راست اردو آبادی کو پہنچ رہا ہے۔وہ اس کا بخوبی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ریاست کے تقریباً سبھی دفتروں میں اردو مترجم ، معاون اردو مترجم اور دیگر اردو عملے بحال کئے گئے ہیں تاکہ اردو آبادی کو سرکاری منصوبوں کا فائدہ مل سکے ۔ اس کے لئے حال ہی میں تقریباً ایک ہزار معاون اردو مترجمین کی تَقرُّری عزت مآب وزیر اعلیٰ بہار نے کی ہے۔اس کے لئے عزت مآب وزیر اعلیٰ بہار کا خاص طور پر میں اردو آبادی کی طرف سے شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ڈائرکٹر موصوف نے کہا کہ اردو ڈائرکٹوریٹ کے زیرِ اہتمام ریاستی سطح پر کئی کامیاب اور موثر اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ اس کے تحت ہر سال اردو زبان و ادب کے ۲۲نامور شعرا و ادبا کی ادبی خدمات کے اعترا ف اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے اور ان کی ادبی خدمات سے نئی نسل کو متعارف کرانے کی غرض سے یادگاری تقریبات منعقد کی جاتی ہے۔آج کی تقریب اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔جناب پرویز عالم نے کہا کہ رمز عظیم آبادی کا شمار ان باکمال شاعروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی بے پناہ شاعرانہ قدرت اور خداداد صلاحیت کا لوہا منوایا۔رمز کی شاعری میں سادگی، خلوص اور حقیقت پسندی نمایاں ہے۔ ان کا لب و لہجہ نیا،فکر منفرد مگر شاعری روایت کے احترام کے ساتھ دلکشی اور دل پذیری سے بھرپور ہے۔ ڈاکٹر صفدر امام قادری،سابق صدر شعبہ اردو،کالج آف کامرس آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ نے رمز عظیم آبادی سے اپنی ملاقات کا تذکرہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ان سے میری ملاقات میں نرم اور گرم دونوں طرح کی گفتگو ہوا کرتی تھیں۔انہوں نے کہا کہ رمز عظیم آبادی بالعموم ایک استاد شاعر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ پرویز شاہدی کے شاگردوں میں تھے اس لئے ان کی شاعری میں پرویز شاہدی کے کلام کا اثر دیکھنے کو ملتا ہے۔ آزادی کے بعد شہر عظیم آباد میں جن نئے شعرائے اپنی خاص شناخت بنائی ان میں رمز عظیم آبادی کا نام بھی شامل ہے۔ ڈاکٹرنسیم احمد نسیم،معروف ادیب و ناقد،مغربی چمپارن (بتیا)نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ رمز عظیم آبادی پوری دنیا میں اپنی خاص شناخت رکھتے تھے۔ اردو ادب کی تاریخ میں غریب اور معاشی طور پر کمزور ہونے کے باوجود وہ بہت ہی باحوصلہ شاعر تھے۔ وہ آسمان ادب کا چمکتا ستارہ تھے۔ وہ فطری ، خوش گو اور زود گو شاعر تھے۔ فخرالدین عارفی،معروف افسانہ نگار ،ادیب و ناقد،پٹنہ نےرمز عظیم آبادی پر اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے رمز عظیم آبادی ایک ایسے با کمال شاعر ہیں جن پر سرزمین آباد رشک کرتی ہے۔ رمز کے کلام کی خوشبو سرزمین بہار سے نکل کر پوری دنیا میں پھیلی ، جس کی ادبی دنیا قائل اور معترف ہے۔ وہ بہت ہی محنت کش شاعر تھے۔ انہوں نے حالات سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔اس سے قبل طلبا وطالبات کی پیش کش کے تحت جناب محمد ذوالقرنین،ایماے سیمسٹرIV-،پاٹلی پترا یونیورسٹی،پٹنہ،محترمہ شگفتہ ناز،ریسرچ اسکالر،پاٹلی پترا یونیورسٹی،پٹنہ نے اپنی کاوشیں پیش کیں۔اس موقع پر اردو ڈائرکٹوریٹ کی جانب سے رمز عظیم آبادی مرحوم کی اہلیہ اور بیٹی کو نقدرقم کے ساتھ شال پوشی کرکے عزت افزائی کی گئی۔دوسرے اجلاس میں ڈاکٹر قاسم خورشید، مشہور افسانہ نگار و سابق صدر لینگویجیز، ایس سی ای آرٹی،پٹنہ کی صدارت میں بزم سخن کا انعقاد عمل میں آیا۔اس محفل میں سنیل کمار تنگ، سیوان، نیازنذر فاطمی،پٹنہ،میم۔اشرف،پٹنہ،گلفام صدیقی،اورنگ آباد،صدف اقبال،گیا، شبانہ عشرت،پٹنہ، ظفر حبیبی،موتیہاری، پریم کرن،پٹنہ،بے نام گیلانی،نالندہ نے اپنے کلام سے سامعین کو خوب خوب محظوظ کیا۔ڈائرکٹر ایس ایم پرویزعالم نے بھی اپنی بالیدہ اورفکر انگیز شاعری پیش کرکے سامعین سے داد تحسین وصول کئے۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں محبان و دانشوران اردو شریک تھے۔ پاٹلی پترا یونیورسٹی کے درجنوں طلبا و طالبات بھی اس پروگرام کا حصہ بنے۔ اہم شخصیات میں مظفر ابدالی،چیف پوسٹ ماسٹر جنرل ،پٹنہ، ڈاکٹر اعجاز علی ارشد، پروفیسر شہاب ظفر اعظمی،مشتاق نوری، شائستہ انجم نوری، امتیاز کریم، اثر فریدی،منیر سیفی، اشرف النبی قیصر، امتیاز کریم وغیرہ سمیت متعدد دانشوران اردو موجود تھے۔ تقریب کی نظامت محمد ہاشم نے بحسن و خوبی انجام دئے۔تقریب میں بڑی تعداد میں محبان اردو شریک ہوئے۔تقریب کا اختتام ایس ایم پرویز عالم، ڈائرکٹر اردو ڈائرکٹوریٹ کے تشکراتی کلام پر ہوا۔











