نئی دہلی، 7 مارچ (یو این آئی) مرکزی وزیر داخلہ اور کوآپریٹیو وزیر امت شاہ کل یعنی جمعہ کو نئی دہلی میں نیشنل کوآپریٹو ڈیٹا بیس کا آغاز کریں گے ۔ مسٹر شاہ ‘نیشنل کوآپریٹو ڈیٹا بیس 2023: ایک رپورٹ’ بھی جاری کریں گے ۔وزیر اعظم نریندر مودی کے "سہکار سے سمردھی” کے ویژن کو پورا کرنے کے لیے یہ کوآپریٹیو کی وزارت کی ایک اور اہم پہل ہے ۔ اس پہل کے تحت کوآپریٹیو وزارت نے ہندوستان کے وسیع کوآپریٹو سیکٹر کے بارے میں اہم معلومات حاصل کرنے کے لیے ایک مضبوط ڈیٹا بیس کی لازمی ضرورت کو تسلیم کیا ہے ۔ ریاستی حکومتوں، قومی فیڈریشنز اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے کوآپریٹو پر مرکوز اقتصادی ماڈل کو فروغ دینے کے لیے ایک نیشنل کوآپریٹو ڈیٹا بیس تیار کیا گیا ہے ۔مرکزی وزارتوں/محکموں کے سیکرٹریز اور دیگر سینئر افسران، ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں، آر سی ایس، کوآپریٹو سوسائٹیز، اور کوآپریٹو فیڈریشنز/ یونینوں کے ایڈیشنل چیف سکریٹریز/ پرنسپل سیکرٹریز آف کوآپریشن سمیت ملک بھر کے تقریباً 1400 شرکاء اس تقریب میں شرکت کریں گے ۔ نیشنل کوآپریٹو ڈیٹا بیس (این سی ڈی) کے استعمال اور اطلاق اور ہندوستان میں کوآپریٹو زمین کی تزئین کو بہتر بنانے کے اس کے امکانات کے بارے میں شرکا کو بریف کرنے اور اس کے تعلق سے بیداری پیدا کرنے کے لیے دوپہر کے سیشن میں ایک تکنیکی ورکشاپ کا انعقاد کیا جائے گا۔کوآپریٹیو کا ڈیٹا مختلف اسٹیک ہولڈرز سے مرحلہ وار طریقے سے نیشنل کوآپریٹو ڈیٹا بیس پر جمع کیا گیا ہے ۔ پہلے مرحلے میں تین شعبوں کی تقریباً 2.64 لاکھ بنیادی کوآپریٹو سوسائٹیز کی نقشہ سازی کی جائے گی، جس میں پرائمری ایگریکلچر کریڈٹ سوسائیٹیز ( پی اے سی ایس )، ڈیری اور فشریز کا احاطہ کیا گیا ہے ۔ دوسرے مرحلے میں مختلف نیشنل فیڈریشنز، اسٹیٹ فیڈریشنز، اسٹیٹ کوآپریٹو بینک (ایس ٹی سی بی )، ڈسٹرکٹ سینٹرل کوآپریٹو بینک ( ڈی سی بی ایس )، اربن کوآپریٹو بینک ( یو سی بی ایس )، اسٹیٹ کوآپریٹو ایگریکلچر اینڈ رورل ڈیولپمنٹ بینک ( ایس سی اے آر ڈی بی )، پرائمری کوآپریٹو ایگریکلچر کا ڈیٹا شامل کیا گیا ہے جبکہ تیسرے مرحلے میں رورل ڈولپمنٹ بینک ( پی سی اے آر ڈی بی )، شوگر کوآپریٹو ملز، ڈسٹرکٹ یونینز اور ملٹی اسٹیٹ کوآپریٹو سوسائٹیز (ایم ایس سی ایس ) کو اکٹھا کیا گیا ہے اس کے علاوہ 5.3 لاکھ سے زیادہ پرائمری کوآپریٹو سوسائٹیوں کا ڈیٹا باقی تمام شعبوں سے ریاستی ( یو ٹی ایس آر سی ایس / ڈی آر سی ایس ) کے دفاتر کے ذریعے نقشہ تیار کیا گیا ہے ۔












