
(بھا گل پور،پریس ریلیز)انجمن باغ و بہار، برہ پورہ،بھاگل پور کے زیر اہتمام نوشین جہاں کی رہائش گاہ پر جوثر ایاغ کی صدارت میں علی جواد زیدی کے یوم پیدائش پرایک ادبی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر انجمن کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد پرویز نے کہا کہ پدم شری علی جواد زیدی ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔وہ بیک وقت شاعر،ادیب،محقق،نقاد،صحافی، خاکہ نگار،مضمون نگار،کالم نگار، مترجم،مدیر ، افسانہ نگار، مجاہد آزادی تھے۔ وہ ترقی پسند شاعر تھے،انکی غزلوں میں عصری حسیت،احساس کی تازگی اور تخیل کی جولانی نظر آتی ہے۔ انکی نظموں میں آزادی،غلامی،ہندو مسلم اتحاد،بھوک،افلاس،قحط،کارخانوں اور ملوں کے مزدوروں وغیرہ کے مسائل ملتے ہیں۔ 10مارچ1916ء کو کرہان ضلع اعظم گڑھ،یوپی میں پیدا ہوئے اور وفات دسمبر 2006ء کو۔والد کا نام سید علی امجاد ،وہ شاعر تھے اور اپنا تخلص افسر کرتے تھے۔والدہ کا نام طیبہ بی بی اع اہلیہ کا نام شہناز بیگم تھا۔ انہوںنے محمود آباد کالونی ہائی اسکول سے 1935ء میٹرک پاس کیا۔1939میں لکھنوء یونیورسٹی سے بی۔اے کیا اور 1942ء میں ایل۔ایل۔ بی لکھنوء سے کیا اور پھر وکالت کرنے لگے۔بعد میں آل انڈیا ریڈیو سے منسلک ہوگئے اور1978ء میں آل انڈیا ریڈیو کی ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔ انہوں نے نعتیہ قصیدہ سے اپنی ادبی زندگی کا آغاز کیا ۔ وہ عزیز لکھنوی کے شاگرد تھے اور تخلص صابر کرتے تھے۔ انکا پہلا افسانہ فسانہء درد تھا جو رسالہ چندن پنجاب میں شائع ہوا تھا۔انہوں نے رسالہ نیا دور نکالا جو آج تک جاری ہے،رسالہ شیرازہ جار ی کیا۔1981ء میںوہ اتر پردیش اردو اکادمی کے صدر رہے۔انکی تصایف میں رگ سنگ،میری غزلیں،دیار سحر،انتخاب علی جواد زیدی،نسیم دشت آرزو،تیشہ آواز،سلسلہ،ورق ورق زنجیر(شعری مجموعہ)پارو(افسانہ)، غبار کارواں ،(خود نوشت )،تعمیر ادب،تاریخ ادب اردود تدوین،دو ادبی اسکول،فکر و ریاض،کمال ابواکلام،ہم قبیلہ،ہندوستان میں اسلامی علوم کے مراکز،قصیدہ نگاران ارت پردیش،مثنوی نگاری،دہلوی مرثیہ گو،میر انیس، آزادی،نغمہء آزادی، انیس کے سلام،اردو میں قومی شاعری کی سو سال،ہماری قومی شاعری وغیرہ خاص ہیں۔انکی اہم نظموں میں نئی سحر،یاران دکن،خود کلامی،پھول،کڑی ،عجیب تنہائی،تازہ امتحان،ناقد،فیصلہ،مناطر کے اشارے،جذبہء تخلیق،انجام کا انجام،جنت کشمیر،انمول آتما وغیر ہ خاص ہیں۔نشست میں شامل محمد شاداب عالم، ڈاکٹر حبیب مرشد خاں،محمد محبوب عالم نے علی جواد زیدی کے فن سے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔











