
بھاگل پور،پریس ریلیز)انجمن باغ و بہار، برہ پورہ،بھاگل پور کے زیر اہتمام نوشین جہاں کی رہائش گاہ پر جوثر ایاغ کی صدارت میںرام لعل کے یوم پیدائش پرایک ادبی نشست منعقد کی گئی۔ اس موقع پر انجمن کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد پرویز نے رام لعل کے حیات و فن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ساہتیہ اکاڈمی ایوارڈ یافتہ رام لعل اردو افسانوی ادب کا ایک بڑا اور اہم نام ہے ۔وہ بیک وقت افسانہ نگار، ناول نگار، ناولٹ نگار، تنقید نگار،مترجم،خاکہ نگار،سفر نامہ نگار،صحافی،کالم نگار،ڈراما نگار،فلم و ٹیلی ویژن کار،بچوں کے ادیب تھے۔ انہوں نے زندگی کے چھوٹے بڑے سبھی مسائل کو اپنے افسانے کا موضوع بنایا۔ انکے افسانے موجودہ سماج اور اس میں بسنے والے انسا ن کے کرب انگیزلمحوں کی داستان ہیں۔انکا اصل نام رام لعل چھاپڑا اور قلمی نام رام لعل۔03مارچ1923ء میں میانولی،پنجاب،پاکستان میں پیدا ہوئے اور وفات16اکتوبر 1996ء میں۔والد کا نام لچھمن داس چھاپڑا تھا۔انہوں نے سناتن دھرم اسکول میانوالی سے میٹرک پاس کیا،تعلیم حاصل کرنے کے بعد ریلوے میں ملازمت کر لی اور اسی محکمے سے 1981ء میں سبکدوش ہوئے۔انہوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز افسانہ نگار ی سے کی اور انکا پہلا افسانہ "تھوک تھا جو ہفتہ وار اخبار خیام میں1943ء میں شائع ہوا تھا۔انکا پہلا افسانوی مجموعہ آئینے تھا اور آخری افسانوی مجموعہ سدا بہار چاندنی ۔ انہوں نے ایک فلمی کہانی لکھی تھی جس کا نام تھا دل آخر دل ہے”۔انکی تصانیف میں آئینے،انقلاب آنے تک،جو عورت ننگی ہے،وہ مسکرائے گی،نئی دھرتی پرانے گیت،گلی گلی، آواز تو پہچانو،چراغوں کا سفر،انتظار کا قیدی،کل کی باتیں، اکھڑے ہوئے لوگ،گذرتے لمحوں کی چاپ،،معصوم آنکھوں کا بھرم،ڈوبتا ابھرتا آدمی،ایک اور دن کو پرنام،پکھیرو(ساہتیہ اکاڈمی ایوارڈ)،سدا بہار چاندنی وغیرہ ۔ انکے ناولوں میںکہرا اور مسکراہٹ،مٹھی بھر دھوپ،نیل دھارا،سورج جیسی رات،آتش خور،آگے پیچھے(ناولٹ)،زرد پتوں کی بہار(سفر نامہ)،خواب خواب سفر،اردو افسانے کی نئی تخلیقی فضا،دریچو ں میں رکھے چراغ،کوچہء قاتل،ڈیڈی کی چوری،دادی ماں،اڑتا ہوا سردار،مصیبت کے ساتھی(بچوں کے لئے)،آدھا آدمی، نیند نہیں آتی،درد کی سیما وغیرہ خاص ہیں۔اس موقع پر جوثر ایاغ نے کہا کہ رام لعل کے افسانے سماج کی بولتی ہوئی تصویر ہے۔ ڈاکٹر سید نیر حسن نے پروفیسر مناظرعاشق ہرگانوی کی نگرانی میں رام لعل کے شخصیت اور فن پر پی۔ایچ۔ڈی کیا ہے۔ نشست میں شامل محمد شادب عالم، ڈاکٹر سید نیر حسن،ڈاکٹر حبیب مرشد خاں،،محمد محبوب عالم،محمد نایاب عالم نے رام لعل کے حیات و فن سے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔











