
بھا گل پور،پریس ریلیز)انجمن باغ و بہار، برہ پورہ،بھاگل پور کے زیر اہتمام فتحپور،سبور میں محمد شاداب کی رہائش گاہ پر شاعر فیض رحمن کی صدارت میں اصغر گونڈوی کے یوم پیدائش پر ایک ادبی نشست کا انعقاد کیا گیا ۔ اس موقع پر انجمن کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد پرویز نے کہا کہ اصغر گونڈوی جدید اردو شاعری کے ارتقائی دور کا ایک ممتاز نام ہے۔انکی شاعری کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ انکے کلام میں موسیقیت،لطافت اور تصوف کی آمیزش ملتی ہے۔وہ بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے۔انکی شاعری قدیم اور جدید غزل گوئی کا حسین سنگم ہے۔وہ شاعر ی میںمرزا غالب سے متاثر تھے اور نثر میں شبلی نعمانی اور ابولکلام آزاد سے۔ 01مارچ 1884ء الہی باغ ،گورکھپور میں پیدا ہوئے اور وفات 30نومبر1936ء کو۔ انکا اصل نام اصغر حسین اور تخلص اصغر اور قلمی نام اصغر گونڈوی۔ والد کا نام تفضل حسین جو قانون گو تھے۔انہوں آٹھویں جمایت تک تعلیم حاصل کی تھی۔ بابوراج بہادر جو ریلوے میں نوکری کرتے تھے،ان سے دوستی ہو گئی اور انہوں نے اصغر گونڈوی کو ریلوے میں نوکری کرادی۔ انہوں نے انگریزی میں مہارت حاصل کر لی تھی جس کی وجہ سے انہیںرسالہ ہندوستانی کے مدیر بنایا گیا تھا۔ انہوں نے ابتدا میں وجد بلگرامی سے اصلاح لیا۔ انکی تصانیف میں نشاط روح،سرود زندگی(شعری مجموعہ)، کلیات اصغر،دیوان اصغر،منتخبات نثروغیرہ ہیں۔ اس موقع پر فیض رحمن نے کہا کہ اصغر گونڈوی کے زیادہ تر اشعار قرآنی آیات کی تفسیر ہیں۔معصوم رضا عادل نے کہا کہ اصغر گونڈوی کے شاعری میں علامہ اقبال رنگ زیادہ نظر آتا ہے۔محمد فاروق رضا نے کہا کہ اصغر گونڈوی ایک صوفی شاعر تھے۔











