پٹنہ 21 مارچ :جے ڈی (یو) کی ریاستی ترجمان محترمہ انجم آرا نے اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو اور ریاست کی سابق وزیر اعلیٰ محترمہ رابڑی دیوی کے بہار میں جرائم کے حوالے سے دیے گئے جھوٹے بیانات پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحیثیت وزیر اعلیٰ محترمہ رابڑی دیوی نے اپنے شوہر کی سرپرستی میں بہار پر حکومت کی اور ہر بہاری جانتا ہے کہ ان کے دور حکومت میں خواتین کی کیا حالت تھی۔پارٹی کے ریاستی ترجمان نے کہا کہ تیجسوی یادو نے 2005 سے 2025 تک کے این سی آر بی کے اعداد و شمار کے بارے میں جو بات کی تھی وہ جھوٹ کا پلندہ ہے۔ این سی آر بی کی رپورٹ میں سال 2023 تک کا صرف 2022 تک کا ڈیٹا ہی دستیاب ہے، ایسے میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کا میڈیا میں جرائم کو لے کر دیا گیا بیان نہ صرف جھوٹا ہے بلکہ مضحکہ خیز بھی ہے۔تیجسوی یادو سے سوال پوچھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ انہوں نے 2025 تک بڑھتے ہوئے جرائم کے اعداد و شمار کس بنیاد پر پیش کیے؟ سچائی یہ ہے کہ ایس سی آر بی کی رپورٹ کے مطابق لالو پرساد یادو اور رابڑی دیوی کے دور میں 1990 سے 2005 تک 67249 قتل ہوئے، جو اس دور میں جنگل راج کے وجود کو ثابت کرتے ہیں۔ رابڑی دیوی نے اپنے دور حکومت میں خواتین کی حفاظت کے لیے کیا کیا؟ عزت مآب وزیر اعلیٰ نتیش کمار حکومت پر سوال اٹھانے سے پہلے انہیں اپنے دور حکومت کی ناکامیوں کا جواب دینا چاہیے۔ جن کے دور حکومت میں بہار میں ‘جنگل راج دیکھنے میں آیا، جہاں خواتین گھروں سے باہر نکلنے سے خوفزدہ تھیں، ان کے پاس موجودہ حکومت پر تنقید کرنے کی کوئی اخلاقی بنیاد نہیں ہے۔ رابڑی کی وزارت اعلیٰ لالو کے ‘پراکسی راج کا حصہ تھی جس میں ترقی اور سلامتی پر توجہ نہیں دی گئی۔
اس لیے لالو خاندان کو ترقی اور سلامتی پر بات کرنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے، این سی آر بی اور بی پی آر ڈی کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ 1990 سے 2005 تک بہار میں پولیس اہلکاروں کے خلاف 5,330 حملے ہوئے اور ان حملوں میں 1901 پولیس اہلکار اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ جبکہ اس دوران ریاست میں کل 2,448 نکسل حملے ہوئے۔ دوسری طرف عزت مآب وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار کے دور میں سال 2006 سے 2022 تک کل 1,245 پولیس اہلکاروں پر حملے ہوئے اور ان حملوں میں 317 پولیس اہلکار اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ عزت مآب وزیر اعلیٰ نتیش کمار ریاست میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے سلسلے میں کتنے سنجیدہ اور چوکس ہیں۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کو ان اعداد و شمار کو دیکھنا چاہئے اور پھر میڈیا میں جرائم کے حوالے سے بیان دینا چاہئے۔ تیجسوی یادو سے سوال پوچھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ سب جانتے ہیں کہ لالو پرساد یادو اور رابڑی دیوی کے دور حکومت میں بہار میں خواتین، کسانوں، طلباء اور نوجوانوں کی کیا حالت تھی۔ اس دوران بہار میں مجرموں کا غلبہ تھا اور اغوا کے لیے تاوان کی رقم کے سودے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ سے ہی ہوتے تھے۔ شادی بیاہ کی تقریبات میں شوروم سے ہی کاریں چھین لی جاتی تھیں اور دن دیہاڑے قتل، ڈکیتی اور اغوا کی وارداتیں عام تھیں۔











