
پٹنہ، 27 مئی، سماج نیوز سروس:وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار کی بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کو سختی سے لاگو کرتے ہوئے بدعنوان سرکاری ملازمین کے خلاف ایک جامع مہم چلائی جارہی ہے۔ جتیندر سنگھ گنگوارڈائریکٹر جنرل، ویجلنس بیورو کے مطابق ویجیلنس بیورو کی سطح پر اس سال جنوری سے اب تک یعنی تقریباً 150 دنوں میں 34 بدعنوان سرکاری ملازمین کے خلاف مقدمات درج کرکے کارروائی کی گئی ہے۔ یعنی ہر 4 سے 5 دن میں رشوت لیتے رنگے ہاتھوں یا اپنے عہدے کا غلط استعمال کرنے والے کسی نہ کسی افسر یا ملازم کو دبو چا جا رہا ہے ۔ اس میںٹریپ سے متعلق کیس میں 27 سرکاری ملازمین کو رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے، جس میں 12 لاکھ 46 ہزاررشوت کی کل رقم برآمد کی گئی ہے ۔
متعدد عہدوں پر تعینات 27 سرکاری ملازمین کو ٹریپ 4 کے خلاف آمدنی سے زیادہ مالیت (ڈی اے)معاملہ اور تین افسر کے خلا اپنے عہدے کا غلط استعمال کرنے پر کارروائی کی گئی۔ رشوت لیتے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے سرکاری ملازمین کو نگرانی عدالت میں پیش کرنے کے بعد جیل بھیج دیا گیا ہے۔ویجیلنس بیورو کی سطح پر بدعنوان سرکاری ملازمین کے خلاف کی گئی کارروائی کا اوسط گزشتہ 4-5 برسوں میں بہت زیادہ ہے۔ 2024 میں 15,2023 میں 36، 2022 میں 72، 2021 میں 58 اور 2020 میں 37 بدعنوان سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کی گئی تھی۔ گزشتہ برسوں کے مقابلے اس سال کے پہلے 5 ماہ میں ہی 34 افسران یا ملازمین کے خلاف کارروائی کی گئی۔ یہ اوسط گزشتہ برسوں کے مقابلے بہت زیادہ ہے۔ 2022 میں پورے سال میں ٹریپ ، ڈی اے اور عہدے کا غلط استعمال کرنے والے 72 سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کی گئی تھی۔ 2022 میں اوسطاً ہر 5 سے 6 دن میںکسی نہ کسی بدعنوان سرکاری ملازم کے خلاف کارروائی کی جا رہی تھی۔ لیکن موجودہ سال میںکارروائی کے اس اوسط کی رفتار زیادہ ہے۔اگر ہم صرف ٹریپ ایکشن کو دیکھیں تو پچھلے پانچ برسوں کے مقابلہ میں اوسط میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ 2020 میں، پورے سال کے دوران پھنسنے کے صرف 22 واقعات ہوئے۔ جبکہ اس سال جنوری سے مئی تک 27 ٹریپ ہو چکے ہیں۔ رواں سال کے آخر تک ٹریپ کی تعداد دوگنی یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ اب تک کی گئی ٹریپ کارروائیوں میں سب سے زیادہ تعداد میں پولیس افسران بشمول سب انسپکٹر اور دیگر رینک کے افسران کے ساتھ ساتھ ریونیو ملازمین رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایگزیکٹیو انجینئر سمیت کچھ دیگر اہلکاروں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔اب نگرانی بیورو میں براہ راست شکایات درج کرانے کا نظام بنایا گیا ہے۔ اس کے لیے ہیلپ لائن نمبر کے علاوہ بیورو آفس کے مین گیٹ پر ایک شکایت باکس بھی لگایا گیا ہے جہاں کوئی بھی شخص کسی بھی افسر کے خلاف شکایت درج کرا سکتا ہے۔ اس کا جائزہ لینے کے بعد متعلقہ شکایت کنندہ کو بلایا جاتا ہے اور پورے معاملے کی جانچ کے بعد کارروائی کی جاتی ہے۔ موصول ہونے والی شکایات پر بھی تیز رفتاری سے کارروائی کی جاتی ہے۔ اس کے پیش نظر بدعنوان سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کی رفتار بڑھ گئی ہے۔
حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بدعنوان سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ کسی بھی سطح پر کسی بھی افسر یا ملازم سے رشوت مانگنے کی شکایت موصول ہونے پر فوری طور پر اس کی تصدیق کر کے کارروائی کی جاتی ہے۔ جن سرکاری ملازمین نے بدعنوانی کے ذریعے بھاری دولت کمائی ہے وہ بھی ویجلنس کی نگاہ میں ہیں۔ مناسب تفتیش کے بعد ڈی اے کا مقدمہ درج کرکے کارروائی کی جاتی ہے۔











