
ارریہ، ( مشتاق احمد صدیقی ) گزشتہ جمعہ کو جماعت اسلامئ ہند ارریہ یونٹ کی جانب سے شہر کے معزز صائمین کے لئے جماعت کے ضلع دفتر کی دوسری منزل پر واقع مسجد عثمان کی دوسری منزل پر ایک پر وقار افطار کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں عمائدین شہر کی بڑی تعداد نے شرکت کیں اور ایک ساتھ روزہ افطار کر کے آپسی بھائی چارہ کی عمدہ نظیر پیش کیں۔ افطار اور نماز مغرب کے بعد عثمانیہ مسجد کے امام و خطیب مولانا افروز عالم فلاحی نے تمام صائمین کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یوں تو اِس ماہ کے تمام ہی ایّام فضیلت کے حامل اور بابرکت ہیں، تاہم اِس کے آخری عشرے کی اہمیت اور عظمت بہت زیادہ ہے کہ یہ جہنّم سے نجات کا عشرہ ہے۔ نبی کریم ﷺ یوں تو پورا ماہِ رمضان عبادت و ریاضت میں گزارتے، مگر آخری دس دنوں میں آپ ﷺ کی عبادت میں بہت اضافہ ہو جاتا۔ جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا،’’ جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو حضور نبی کریم ﷺ کمربستہ ہوجاتے، اِس کی راتوں کو زندہ رکھتے (یعنی شب میں بیدار رہتے)اور گھر والوں کو بھی جگایا کرتے۔ یہی وہ عشرہ ہے، جس میں ایک ایسی رات ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار مہینوں سے زیادہ افضل قرار دیا ہے۔ اِس ماہِ مقدّس کی آخری رات بھی اِسی عشرے میں ہے، جس کی احادیثِ مبارکہ میں بہت فضیلت بیان کی گئی ہے۔ آپ نے مزید کہا کہ اِس عشرے کی ایک اہم عبادت اعتکاف ہے، جس میں بندۂ مؤمن دنیاوی مشغولیت سے منہ موڑ کر خود کو مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے وقف کردیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ رمضان کے آخری دس دنوں میں اعتکاف فرماتے اور ازواجِ مطہراتؓ بھی اعتکاف کیا کرتی تھیں۔ اِس مقصد کے لیے مرد 20 ویں روزے کو افطار سے قبل مسجد اور خواتین گھر کے مخصوص حصّے میں منتقل ہوجاتی ہیں اور پھر شوال کا چاند نظر آنے تک مختلف شرعی پابندیوں کے ساتھ وہیں ٹھہرے رہتے ہیں۔ چوں کہ اعتکاف ایک ایسا مبارک عمل ہے، جس پر نبی کریم ﷺ عُمر بھر کار بند رہے، اِس لیے ہمیں اِس سُنتِ نبویؐ کی پیروی میں کم ازکم ایک بار تو ضرور اعتکاف میں بیٹھنا چاہیے۔ مولانا نے اسلام کا اہم رکن زکوٰۃ پر بولتے ہوئے کہا کہ زکوٰ کو زکوٰ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ جب انسان مال کے ساتھ مشغول ہوتا ہے، تو اس کا دل مال کی طرف مائل ہو جاتا ہے ، دل کے اس میلان کی وجہ سے مال کو مال کہا جاتا ہے، اورمال کے ساتھ اس مشغولیت کی وجہ سے انسان کئی روحانی و اخلاقی بیماریوں اور گناہوں میں مبتلاہو جاتا ہے، مثلا: مال کی بے جا محبت، حرص اور بخل و غیرہ۔ان گناہوں سے حفاظت اور نفس و مال کی پاکی کے لیے زکوٰة و صدقات کو مقرر کیا گیا ہے، اس کے علاوہ زکوٰة سے مال میں ظاہری یا معنوی بڑھوتریہے۔ آپ نے آخر میں زکوۃ کی حکمت بتاتے ہوئے کہا کہ زکوٰة کو زکوٰة کہنے کی وجہ یہ ہے کہ جب انسان مال کے ساتھ مشغول ہوتا ہے، تو اس کا دل مال کی طرف مائل ہو جاتا ہے ، دل کے اس میلان کی وجہ سے مال کو مال کہا جاتا ہے، اورمال کے ساتھ اس مشغولیت کی وجہ سے انسان کئی روحانی و اخلاقی بیماریوں اور گناہوں میں مبتلاہو جاتا ہے، مثلا: مال کی بے جا محبت، حرص اور بخل و غیرہ۔ان گناہوں سے حفاظت اور نفس و مال کی پاکی کے لیے زکو و صدقات کو مقرر کیا گیا ہے، اس کے علاوہ زکو سے مال میں ظاہری یا معنوی بڑھوتری ہوتی ہےزکوٰۃ ادا کر کے انسان صرف ایک فرض ہی سے سبکدوش نہیں ہوتا بلکہ اس سے اس کی ذات کی تکمیل بھی ہوتی ہے۔ تکمیل و تزکیہ ہی احکامِ شریعت کا بنیادی مقصد ہے۔ جس چیز کا نام دین میں حکمت ہے، وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ علم و بصیرت کے ساتھ انسان کے نفس کی تربیت اور تزکیہ ہو۔ زکوٰۃ کا اصل مقصد ہی یہ ہے کہ اس سے انسان تزکیہ حاصل کرے۔ زکوٰۃ کے معنی پاکیزگی اور نمو کے ہیں۔ زکوٰۃ دینے سے آدمی خود غرضی، تنگ دلی اور زرپرستی کی بُری صفات سے نجات پاتا ہے۔ اس کی روح کو پاکیزگی اور بالیدگی حاصل ہوتی ہے جیساکہ کہ قرآن مجید اللہ نے فرمایا ہے:-وَسَیُجَنَّبُھَا الْاَتْقَی الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَہٗ یَتَزَکّٰی۔ اور اس (جہنم) سے دُور رکھا جائے گا وہ شخص جو اللہ کا ڈر رکھتا ہے اور اپنا مال تزکیہ حاصل کرنے کے لیے دوسروں کو دیتا ہے۔ اس افطار پارٹی میں شرکت کرنے والے تمام مہمانانوں کا جماعت کے ارکان عثمان مسجد کے باہر دیر تک کھڑے رہ کر ان کا شاندار استقبال کیا اور پورے اخلاص اور اخلاق حسنہ کے ساتھ انہیں جائے افطار تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔











