بہارشریف(محمد راشد عالم) مورخہ 16 مارچ بروز اتوار بوقت بعد نماز عصر زیر صدارت ارشد استھانوی صدر جمیعت علماء نالندہ کی نشست و اصلاح معاشرہ منعقد کی گئی۔مولانا محمد شاکر قاسمی جنرل سکریٹری جمعیت علماء نالندہ نے بتایا کہ پورےملک کے ہر ہر گوشے میں اور ضلع نالندہ کے بھی مختلف محلوں،قصبوں میں،امت مسلمہ کی شہزادیاں فرقہ پرستوں کی سازشوں کا شکار ہوکر مرتد ہوکر غیر مسلموں کے ساتھ بھاگ کر شادی رچانے کے دلدوز واقعات کثرت سے رونما ہو رہے ہیں اور یہ سازش کا جال فرقہ پرست طاقتوں نے ہر جگہ اسکول، کالج، ریسٹورینٹ ؛ہوٹل، پارک، مال، دوکان، بازاروں میں پھیلا رکھاہے اور ہماری بہنیں آئے دن ان کا شکار ہو رہی ہیں اور ہمارے غیرت مند نوجوانوں کی ان واقعات پر گہری نظرہے ان کے سد باب کیلئے اپنے تئیں کوشش کر رہے ہیں جو قابل قدر ہے۔امت مسلمہ کو ارتداد سے بچانے کیلئے اور ناگفتہ بہ حالات سے نبرد آزما ہونے کیلئے رمضان المبارک کے مہینے میں نشست کا انعقاد ضروری سمجھا گیا اور اتفاق رائے سے طے پایا کہ تمام ذمہ دار حضرات اپنے دائرہ اختیار میں اصلاح کی پوری کوشش کریں خواہ ائمہ کرام ہوں یا علماء کرام؛ اساتذۂ کرام؛ والدین،بھائی،محلے کے بڑے بزرگ سبھی پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیں۔جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سنو،تم سب چرواہے یعنی ذمہ دار ہو اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا یعنی امام اور حاکم سے اس کی رعیت کے بارے میں باز پرس ہوگی،ہر مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے۔تاریخ عالم اس بات کی گواہ ہےکہ جب تک لوگ اس حدیث پرعمل کرتے رہے معاشرہ میں کسی بھی قسم کا کوئی فساد اور بگاڑ پیدا نہیں ہوا۔ لیکن جب سے امت مسلمہ نےاس حدیث پر عمل کرنا چھوڑ دیا تو معاشرے میں فحاشی،بے حیائی،عریانیت پھیلنی شروع ہوگئی ہماری نوجوان،نسلیں اتنی آزاد ہو گئی کہ ارتداد کے دہانے پر پہنچ گئیں۔اسی طرح حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نےایک خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ خوب سمجھ لو کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جو لوگ کوئی گناہ ہوتے ہوئے دیکھیں اور مقدور بھر اس کو روکنے کی کو شش نہ کریں، تو قریب ہےکہ اللہ تعالیٰ ان مجرموں کے ساتھ ان دوسرے لوگوں کو بھی عذاب میں پکڑ لیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا کہ اے ایمان والو خود کو اور اپنے اہل وعیال کو آگ سے بچاؤ،اہل وعیال کو آگ سے بچانے کا مطلب ہےکہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا رہے۔اتفاق رائے سے یہ طے پایا کہ دار القضاء امارت شرعیہ بہارشریف سے بھی اس سلسلے میں اپیل کی جائے کہ وہ اپنے توسط سے بہارشریف میں ارتداد کے واقعات کو روکنے کیلئے پیش قدمی کریں اور تمام مساجد کے ائمہ کرام بھی اس حساس مسئلے کو مسسل جمعہ میں اپنے خطاب کا موضوع بنائیں۔والدین اپنی اولاد کی تربیت کریں اور ان کے حرکات وسکنات پرنظر رکھیں اور خود کو اور قوم کو رسوا ہونے سے بچائیں اور اپنی شہزادی کو اللہ کے عذاب سے اور دنیا کے عتاب سے بچالیں۔چونکہ ایسی شادی کا انجام دردناک اور عبرتناک ہوتا ہے۔ارشد استھانوی نے اس کے وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ دینی،سیاسی، اخلاقی،اقتصادی اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ترک کر دینا ہے صرف غربت اور افلاس قطعی نہیں ہے۔آج الحمد للہ بڑی خوشحالی ہے پہلے جتنی غربت تھی ویسی اب غربت نہیں ہے لیکن مجال ہے کہ ایسا دلدوز واقعہ کبھی سننے میں آئے،جمعیت علماءہند نالندہ نے عزم کیا ہے ان شاء اللہ اصلاح معاشرہ کی تحریک چلائی جائے گی اور نوجوانوں کی ہر ممکن مدد کی جائے گی جو خدمت خلق میں مصروف ہیں۔میٹینگ اور دعوت افطار میں بہارشریف کے ہر محلہ اور حلقہ کے دانشور حضرات موجود تھے۔ڈاکٹر سرفراز عالم، نائب صدر جمعیت علماء نالندہ اور سید منیر الرحمن نے بھی اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس طرح کی میٹینگ بار بار کرنے کا مطالبہکیا اور ہر محلے میں اصلاح معاشرہ کمیٹی کی تشکیل کی ضرورت ہے۔اس موقع پر کثیر تعداد میں لوگ موجود تھے۔مولانا محمد شاکر قاسمی کی دعاؤں پر میٹینگ کا اختتام پذیر ہوئی۔











