پٹنہ، 16 مئی (یو این آئی) مرکزی حکومت کی طرز پر بہار حکومت نے آج ریاستی سرکاری ملازمین کے مہنگائی بھتہ (ڈی اے) میں دو فیصد اضافے کا اعلان کیا۔ کابینہ سکریٹریٹ ڈپارٹمنٹ کے ایڈیشنل چیف سکریٹری (اے سی ایس )ڈاکٹر ایس سدھارتھ نے جمعہ کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ وزیر اعلی نتیش کمار کی صدارت میں یہاں ہوئی کابینہ کی میٹنگ میں اس سلسلے میں ایک تجویز کو منظوری دی گئی ہے۔
ڈاکٹر سدھارتھ نے کہا کہ اس کے تحت ساتویں پے اسکیل کے تحت ملازمین کے مہنگائی الاؤنس کو 53 فیصد سے بڑھا کر 55 فیصد کردیا گیا ہے۔ اسی طرح پانچواں پے اسکیل حاصل کرنے والے ملازمین کا ڈی اے 246 فیصد سے بڑھا کر 252 فیصد اور چھٹا پے اسکیل حاصل کرنے والے ملازمین کا مہنگائی الاؤنس 455 سے بڑھا کر 466 فیصد کر دیا گیا ہے۔
اے سی ایس نے کہا کہ اس اعلان کی وجہ سے خزانے پر 1070 کروڑ روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔ وہیں انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 میں ریاستی حکومت کی سطح سے 54 ہزار 213 کروڑ روپے کے بازار قرض سمیت 58 ہزار 193 کروڑ روپے کے قرض کی وصولی کی منظوری دی گئی ہے۔
کابینہ سیکرٹریٹ ڈپارٹمنٹ کے ایڈیشنل چیف سکریٹری (اے سی ایس) ڈاکٹر ایس سدھارتھ نے کہا کہ بہار حکومت نے دیہی سطح پر پیدائش اور موت کے سرٹیفکیٹ بنانے کی ذمہ داری پنچایت سکریٹریوں کو سونپنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب ریاست میں پیدائش اور موت کے سرٹیفکیٹ بنانے کی ذمہ داری دیہی سطح پر پنچایت سکریٹریوں کو سونپ دی گئی ہے۔ڈاکٹر سدھارتھ نے کہا کہ ریاست میں 1069 نئی پنچایت سرکاری عمارتوں کی تعمیر کو منظوری دی گئی ہے۔ جس کے لیے 27 ارب 84 کروڑ 93 لاکھ 27 ہزار روپے منظور کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام پنچایت سرکاری عمارتوں میں ایک سودھا دودھ پارلر بھی تعمیر کیا جائے گا۔اے سی ایس نے کہا کہ ریاست میں کینسر کی روک تھام، علاج اور مناسب انتظام کے لیے بہار کینسر کیئر اینڈ ریسرچ سوسائٹی کی تشکیل کی منظوری دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ کینسر کے علاج کے نظام کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ وسیع کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔











