
سہرسہ(سالک کوثر امام)سہرسہ میں منعقد ہونے والے ثقافتی میلوں میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں۔ جنسوراج کے ریاستی جنرل سکریٹری اور سابق ایم ایل اے کشور کمار نے اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ کشور کمار نے بتایا کہ کوسی مہوتسو، ونیشور مہوتسو، ویشہاری مہوتسو سمیت کئی ثقافتی پروگراموں کا بنیادی مقصد آرٹ اور روایت کو بچانا تھا۔ لیکن اب وہ کرپشن کا شکار ہو چکے ہیں۔ ان تہواروں کے بجٹ کا 75 فیصد صرف خیموں اور سجاوٹ پر خرچ ہوتا ہے۔ صرف 25 فیصد رقم مرکزی پروگراموں پر خرچ ہوتی ہے۔ سابق ایم ایل اے نے الزام لگایا کہ ان تقریبات میں مقامی لوگوں کی شرکت مسلسل کم ہو رہی ہے۔ کمیٹیوں میں انتظامیہ اور عوامی نمائندوں سے وابستہ اور قریبی لوگ ہی شامل ہیں۔ حال ہی میں منعقدہ بنگاؤں ہولی تہوار میں انتظامی لاپرواہی دیکھنے میں آئی۔ مقامی لوگوں کو اپنے وسائل سے بابا جی کوٹی میں پروگرام منعقد کرنا تھا۔کوسی مہوتسو کا ذکر کرتے ہوئے کشور کمار نے کہا کہ پہلے یہ سہرسہ کا سب سے باوقار پروگرام ہوا کرتا تھا۔ اس میں انتظامیہ، تاجر، ادیب، صحافی اور سماجی کارکن مل کر تیاری کرتے تھے۔ اب یہ کچھ لوگوں کی ذاتی ملکیت بن چکی ہے۔ انہوں نے سرکاری فنڈز کے غلط استعمال کی شدید مذمت کی ہے۔ انتظامیہ کو متنبہ کیا گیا ہے کہ تہواروں میں شفافیت نہ لائی گئی تو عوامی تحریک چلائی جائے گی۔











