
پٹنہ26مارچ(ہ س)رکن بہار قانون ساز کونسل پروفیسر غلام غوث نے تعلیمی مراکز اہلکاروں کو ان کی بحالی کے 6-7برسوں بعد خدمات سے ہٹا دیئے جانے اور پٹنہ ہائی کورٹ سے دوباہ بحال کئے جانے کا واضح حکم دیئے جانے کے تقریباً دو سال بعد بھی اب تک ان سبھوں کو خدمات میں واپس نہیں لئے جانے کا معاملہ ا?ج ایک بار پھر کونسل میں زور و شور سے اٹھایا۔ انہوں نے وقفہ سوالات کے دوران ایوان کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہاکہ اقلیتی مسلمانوں کی غریب ذاتوں کے بچوں کو بنیادی تعلیم فراہم کرنے اور اسکول جانے لائق بنانے کیلئے ریاستی حکومت نے تقریباً 10ہزار تعلیمی مراکز قائم کئے تھے۔ جن میں پڑھانے کے لئے ایک ایک رضاکار کو ماہانہ اجرت پر بحال کیاگیاتھا۔ 10ہزار میں سے تقریباً 3ہزار تعلیمی مراکز اہلکاروں کو بحالی کے چھ سات برسوں کے بعد صرف اس بنیاد پر عہدے سے برخاست کر دیاگیا کہ وہ مسلمانوں کی اعلیٰ ذات (شیخ، سید، مغل، پٹھان) سے تعلق رکھتے تھے۔برخاستگی کے بعد ان تعلیمی مراکز اہلکاروں کی زندگی دوبھر ہوگئی ہے اور مستقبل تاریک بن گیاہے جب کہ ان کے معصوم بچے فاقہ کشی کا شکار ہیں۔ پروفیسر غوث نے کہاکہ ہٹائے گئے تعلیمی مراکز اہلکاروں کا قصور کچھ بھی نہیں ہے۔ اعلیٰ ذات سے تعلق رکھنا کوئی قصور یا گناہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ان کی بحالی غلط تھی تو اس کے لئے سیدھے طور پر بحال کرنے والے لوگ ہی ذمہ دار ہیں یعنی محکمہ تعلیم کے افسران ذمہ داران ہیں اور اس گناہ کی سزا بھی ان افسران کو ہی ملنی چاہئے۔ مگر المیہ ہے کہ وہی کہاوت دہرا دی گئی’کھیت کھائے گدھا۔ مار کھائے جورہا‘۔ پروفیسر غوث نے یہ بھی کہاکہ بات تو بالکل وہی ہوگئی کہ کسی کی شادی ہوگئی اور اس کے بچے بھی پیدا ہوگئے مگر 6-7سال کے بعد کہا جائے کہ شادی ہی غلط تھی۔انہوں نے کہاکہ محکمہ تعلیم نے اپنی غلطی کی سزا غریب اور بے سہارا فارورڈ مسلم ذات کے تعلیمی رضاکاروں کو دی ہے جس سے ان کے بال بچوں کی زندگی گزر بسر مشکل ہوگئی ہے۔ انہوں نے حکومت سیمطالبہ کیا کہ خدمات سے ہٹائے گئے تقریباً 3ہزار تعلیمی مراکز اہلکار کو خدمات میں واپس لیاجائے اور پٹنہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو جلد ازجلد نافذ العمل بنایاجائے۔ پروفیسر غوث کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر تعلیم سنیل کمار نے اعتراف کیا کہ تقریباً10ہزار تعلیمی مراکز قائم کئے گئے تھے اور اتنی ہی تعداد میں اہلکار بھی ماہانہ اجرت پر بحال کئے گئے تھے۔ انہوں نے ایوان کو بتایاکہ مہادلت، دلت اور اقلیتی انتہائی پسماندہ ذات اکچھر ا?نچل منصوبہ کے تحت تعلیمی مراکز کیلئے تعلیمی رضاکار کے انتخاب اور سروس رول سے متعلق گائڈ لائن کے مطابق اضلاع میں مہادلت، دلت اور اقلیت،انتہائی پسماندہ ذات طبقہ کی ا?بادی کی کثرت کی بنیاد پر نشانہ کے مطابق نشانزد ٹولے میں اسی طبقہ سے ایک تعلیمی رضاکار(شکچھا سیوک) منتخب کیاجاناہے۔ انتخاب اور سروس رول کے برخلاف منتخب کئے جانے کے سبب تقریباً 689جنرل ذات(کٹیگری) کیتعلیمی مراکز اہلکار کو ہٹایاگیاہے۔ وزیر تعلیم سنیل کمار نے اعتراف کیا کہ غلط بحالی کیلئے محکمہ تعلیم کے افسران ذمہ دار ہیں اور اس معاملے میں ملوث ضلع ایجوکیشن افسر، ضلع پروگرام افسر اور بلاک ایجوکیشن افسر کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ وزیر تعلیم نے کہاکہ سی ڈبلو جے سی نمبر 11447/2018 اعجاز کوثر و دیگر بنام ریاستی حکومت و دیگر میں ہائی کورٹ پٹنہ کے ذریعہ مورخہ۔27-07-2022 کو جاری حکم اور دیگر اسی طرح کے معاملے میں بھی جاری حکم کے خلاف حکومت کے ذریعہ ایل پی اے داخل کیاگیا ہے جو ہائی کورٹ میں زیر غور ہے۔











