جالے: سنگھواڑہ تھانہ علاقے کے ایک گاؤں سے مسلم نابالغ طالبہ کے اغوا کا سنسنی خیز واقعہ سامنے آیا ہے۔ متاثرہ کی والدہ کے بیان پر مقامی تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ایف آئی آر کے مطابق، 14 سالہ طالبہ 24 فروری کی شام اپنے آدھار کارڈ اور ایڈمٹ کارڈ کی فوٹو اسٹیٹ کرانے کے لیے اسکول کے قریب گئی تھی، لیکن رات تک واپس نہیں لوٹی۔ تلاش کے دوران، متاثرہ کی سہیلی انجلی کماری نے بتایا کہ اسے کنیا ودیالیہ کے قریب سے زبردستی ایک کار میں بٹھایا گیا جسے پرنس کمار ساہ سنگھواڑہ کی جانب لے گیا۔لڑکی کی والدہ نے اپنے بیان میں رام پورہ کے رہائشی سشیل کمار ساہ کے بیٹے پرنس کمار ساہ، اس کے بھائیوں پرمجیت ساہ، امرجیت ساہ اور ایک بہن کو نامزد کیا ہے۔ جب وہ پرنس کے گھر اپنی بیٹی کے بارے میں پوچھنے گئیں تو وہاں پرنس کی ماں، بہن اور بھائیوں نے نہ صرف گالم گلوچ کی بلکہ مارپیٹ بھی کی۔ کسی طرح جان بچا کر وہ گھر واپس آئیں۔ خاتون نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کی بیٹی کا قتل یا پھر اسے فروخت کیا جا سکتا ہے۔اس معاملے میں سنگھواڑہ تھانیدار رنجیت چودھری نے مقدمہ درج کر کے مزید کارروائی شروع کر دی ہے۔











