
پٹنہ 03 مئی :آج آر جے ڈی انتہائی پسماندہ سیل کے زیر اہتمام پٹنہ کے ملر اسکول گرائونڈ میں ’پسماندہ جگائو -تیجسوی کی سرکار بنائو‘ ریلی کا کا انعقاد کیا گیا ۔ ریلی کی صدارت آر جے ڈی انتہائی پسماندہ سیل کے ریاستی صدر اروند کمار سہنی نے کی۔ریلی سے خطاب کر تے ہوئے اپوزیشن لیڈر شری تیجسوی پرساد یادو نے کہا کہ بہار میں نتیش کمار کی قیادت والی موجودہ حکومت نے بے روزگاری اور نقل مکانی کو فروغ دیا ہے۔ پسماندہ سماج پر مظالم کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور انتظامیہ کے ذریعے انہیں سلاخوں کے پیچھے ڈالا جا رہا ہے۔ پسماندہ اور دلت سماج کے لوگوں کو سب سے زیادہ پریشان کیا جا رہا ہے اور ان پر مظالم اور قید کرنے کے واقعات سب سے زیادہ ہو رہے ہیں۔ بہار میں غریب، استحصال زدہ، محروم اور پسماندہ سماج کے سب سے زیادہ قتل ہو رہے ہیں اور ان پر جس طرح کا ظلم ہو رہا ہے اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے واقعات اور حکومتی سرپرستی میں ہونے والے واقعات دیکھ کر ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ بی جے پی نے نتیش جی کو ہائی جیک کر لیا ہے اور وہ خود جلسوں میں بی جے پی کے ہائی جیک ہونے کا ثبوت دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب ہم ادھر نہیں جائیں گے۔ ہم یہاں اور وہاں صرف دو چار لوگوں کی وجہ سے جاتے ہیں۔ یہ لوگ ہم سے بار بار غلطیاں کرواتے ہیں۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نتیش جی جو بھی کام کرتے رہے ہیں، وہ دوسروں کے دباؤ میں کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنتا دل یو کے ورکنگ صدر اور راجیہ سبھا میں لیڈر سنجے جھا ہیں، جب کہ لوک سبھا میں للن سنگھ، جنتا دل یو کو انہی لوگوں کے ذریعے چلایا جا رہا ہے جو بی جے پی کی سیاست کو مضبوط کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ بہار میں پسماندہ طبقے کے کسی لیڈر کو اچھی وزارت نہیں ملی ہے۔ صرف دھوکہ دیا گیا ہے۔ حکومت میں بیٹھے لوگ بتائیں کہ کتنے ڈی ایم اور ایس پی پسماندہ طبقے سے ہیں؟ نتیش جی تھک چکے ہیں اور حکومت ریٹائرڈ اہلکاروں کی مدد سے چلائی جا رہی ہے۔ شری لالو پرساد جی اور رابڑی دیوی جی نے پسماندہ ذاتوں کے لیے ریزرویشن میں اضافہ کیا، مہاگٹھ بندھن حکومت کے ذریعے تیجسوی کی قیادت میں پسماندہ ذاتوں کے لیے ریزرویشن 18 سے بڑھا کر 25 فیصدی کیا گیا اور ریزرویشن سسٹم کو 49.5 فیصد سے بڑھا کر 65فیصدی کر دیا گیا ۔ لیکن بی جے پی کی ریزرویشن مخالف سوچ کی وجہ سے ڈبل انجن والی حکومت معاملے کو عدالتوں میں الجھا کر 16فیصد ریزرویشن چوری کر رہی ہے اور پسماندہ ذاتوں کا 07فیصد ریزرویشن چرایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لالو جی نے کہا تھا کہ ہم ذات پات کی مردم شماری کرائیں گے۔ آج بی جے پی آکر ہمارے خیال پر کھڑی ہے، یہ لالو جی کی دور اندیشی کا نتیجہ ہے کہ آج نریندر مودی حکومت نے ذات پات کی مردم شماری کرانے کا اعلان کیا ہے۔ اسی طرح لالو جی نے بہت پہلے جننائک کرپوری ٹھاکر کے لیے بھارت رتن کا مطالبہ کیا تھا، لیکن مرکزی حکومت جننائک کرپوری ٹھاکر کو بھارت رتن دینے پر مجبور ہوئی۔ لالو جی نے انہی لوگوں کے ذریعے انہیں بھارت رتن دینے پر مجبور کیا جو ان کی زندگی میں کرپوری جی کو گالی دیتے تھے۔











