
پھلواری شریف: 29 مارچ (پریس ریلیز ): احمد ولی فیصل رحمانی سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر کو امیر شریعت ، امارت شرعیہ بہار، جھارکھنڈ ، اڈیشہ کے عہدہ سے بے دخل کر دیا گیا ہےاور ان کی جگہ پر مولانا انیس الرحمٰن قاسمی کو امیر شریعت مقررکرنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ امارت ٹرسٹ کے بورڈ آف ٹرسٹیز نے جناب احمد ولی فیصل رحمانی کی غیر ملکی شہریت کی بنا پر امارت شرعیہ کو درپیش خطرات کے پیش نظر، ان کے تمام اختیارات سلب کر لیے ہیں اور امارت سے متعلق بھی عہدوں سے معطل کر دیا ہے۔ امارت شرعیہ بہار، جھارکھنڈ اڈیشہ ٹرسٹ کے اراکین نے اپنے دستخط کے ساتھ اپنے منظور شدہ فیصلے میں یہ بھی بتایا کہ گزشتہ سال جنوری 2024 کوامارت میں بورڈ آف ٹرسٹیز کی میٹنگ منعقد ہوئی تھی (جس میں جناب احمد ولی فیصل رحمانی بھی موجود تھے ، جس میں متفقہ طور پر فیصلہ لیا گیا تھا کہ جناب مولانامحمد شبلی القاسی کو مستقل ناظم مقرر کر دیا جائے ۔ ایک سال دو ماہ میں بھی وہ فیصلہ نافذ نہیں ہو سکا تھا اور عرصہ سے مستقل ناظم کی جگہ خالی تھی، چنانچہ اس تجویز کو نافذ کرتے ہوئے بورڈ آف ٹرسٹیز نےمولا نا محمد شبلی القاسمی کو مستقل ناظم مقرر کر دیا ۔ ایک سال دوماہ مںی بھی وہ فصلہا نافذ نہں ہو سکا تھا اور عرصہ سے مستقل ناظم کی جگہ خالی تھی، چنانچہ اس تجویز کو نافذ کرتے ہوئے بورڈ آف ٹرسٹزا نے جناب مولانامحمد شبلی القاسمی کو مستقل ناظم متعنل کاماور آج یینس29مارچ 2025 سے وہ مستقل ناظم ہںآ۔ اپنے اس فصلے مںی بورڈ آف ٹرسٹزا نے دستخط کی تاریخ یعنی29 مارچ 2025 سے احمد ولی فیصل رحمانی کے تمام فصلو ں پر روک لگا دی ہے ،نیز ان کے بھی اختیارات سلب کر لئے ، جس کے بعد وہ نہ کوئی حکم جاری کر سکتے ہیں ، نہ ان کا کوئی حکم نافذ العمل ہوگا۔بورڈ آف ٹرسٹزی کو اندازہ تھا کہ جناب احمد ولی فصل رحمانی صاحب کو غرک ملکی شہریت کی بنا پر مسلم پرسنل لا بورڈ سے نکالے جانے کے بعد بہار کی امارت شرعہ کے لئے مشکل صورت حال در پشک ہو سکتی ہے۔ تین ماہ سے تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لا جار ہاتھا بھی پہلوؤں کا طویل جائزہ لنےد کے بعد بورڈ آف ٹرسٹزن اس نتیجہ پر پہونچا کہ جناب احمد ولی فصل رحمانی کا امرہ شریعت کے عہدہ پر رہنا امارت شرعہ جسے اہم ملی ادارہ کے لئے جہاں خطر ناک ہے وہںو وہ قانونی، دستوری اور شرعی اصولوں کی بنا د پر امرب شریعت نہں رہ سکتے ۔جناب احمد ولی فصک رحمانی نے ایک سال دو ماہ سے ٹرسٹ کی کوئی میٹنگ بھی نہیں بلائی اور جو فیصلے پہلے لئے گئے تھے انہیں بھی نافذ نہیںکیا گیا ، مالی بجٹ بھی ٹرسٹ سے منظور نہں کرائے گئے ۔ اس طرح امارت جو ایک ٹرسٹ ہے، اس کے ضابطوں کو مسلسل نظر انداز کرتے رہے۔ یہ بھی زیر بحث آیا کہ اگر احمد ولی فصل رحمانی پر اس جرم میں کارروائی ہوتی ہے تو امارت شریعہ کا تحفظ مشکل ہوگا۔ اس کے علاوہ ان کے بعض بیانات ایسے ہیں جو ان کے فسق و گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں۔
چنانچہ امارت ٹرسٹ کے اراکنی نے فیصلہ منظور کرتے ہوئے لکھا کہ بورڈ آف ٹرسٹیز کو بہت افسوس ہے کہ جناب احمد ولی فیصل رحمانی صاحب نے عوام ، ارکان ، اور ذمہ داران امارت شرعہ کو بعض چیزوں کے معاملے میں اندھیرےمیں رکھا۔ مثلا امارت شرعیہ کے دستور میں امیر شریعت کے لئے عالم ہونا اور عملی طور پر علمی خدمات کو انجام دینے والے کو اس عہدے پر فائز کئے جانے کے شرائط شامل ہیں۔ اب یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ احمد ولی فیصل رحمانی صاحب عالم دین نہیں ہیں اور اسی طرح انھوں نے اپنی شہریت کے معاملے میں بھی تمام ذمہ داران کو اندھیرے میں رکھا اور لوگ یہ سمجھتے رہے کہ وہ ہندوستانی شہری ہیں، جب کہ یہ بات پایہ ثبوت کو پہونچ چکی ہے کہ احمد ولی فیصل رحمانی صاحب امریکی شہریت رکھتے ہیں جو امارت شرعیہ جیسے ادارہ کے لئے خطر ناک ہے ۔ احمد ولی فیصل رحمانی صاحب کی غیر ملکی شہریت کی وجہ سے ہی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ان کی رکنیت معطل کی اور عاملہ اور سکریٹری شپ سے باہر کیا، امارت شرعیہ بھی ان دشواریوں کی متحمل نہیں ہوسکتی جو ان کی غیر ملکی شہریت کی وجہ سے درپیش ہوسکتی ہیں ۔
لہذا بورڈ آف ٹرسٹیز نے یہ فیصلہ کیا کہ آج مورخہ 29 مارچ 2025 ، دو بجے دن سے جناب احمد ولی فیصل رحمانی صاحب، امارت شرعیہ اور اس کے تمام شعبہ جات میں کسی طرح کی مداخلت نہیں کریں گے اور نہ کوئی نہ حکم جاری کریں گے، اور ان کے پاس ادارے سے متعلق جتنے بھی معاملات ہیں انہیں دفتر کے حوالہ کریں گے، اور اگر وہ کسی طرح کا کوئی حکم دیتے ہیں تو اسے کا لعدم سمجھا جائے گا ۔امارت کے ناظم جناب مولانا محمد شبلی القاسمی (سکریٹری ٹرسٹ امارت شرعیہ) حسب سابق امارت شرعیہ کے ضابطوں کے مطابق امارت شرعیہ کے نظام کو جاری رکھیں گے اور جہاں ضرورت ہوگی بورڈ آف ٹرسٹزکے مشورہ سے کام کریں گے ۔











