
بہارشریف(محمد راشد عالم) اردو ڈائریکٹریٹ،محکمہ کابینہ سیکرٹریٹ،حکومت بہار کے منصوبہ کے تحت ریاست کی دوسری حکومتی زبان اردو کی ترقی اور اس کے فروغ کے لیے بہارشریف شہر کے ہسپتال چوراہا واقع ٹاؤن ہال میں ضلع سطحی اردو عمل گاہ و فروغ اردو سیمینار و مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔افتتاح سنجیت بکسی انچارج افیسر ضلع اردو زبان سیل نالندہ نے شمع روشن کر کیا گیا۔اس پروگرام کی زیر صدارت بینام گیلانی و نظامت تنویر ساکت کی اور زیر سرپرستی محمد شفیق اے ڈی ایم محکمہ آفات،ڈاکٹر اے کے علوی،اشفاق عادل مہمان خصوصی سلطان آزاد مخلصین اردو موجود تھے۔ڈاکٹر اے کے علوی کے ہاتھوں اے ڈی ایم کو شال پیش کر کے اعزاز بخشا گیا۔سنجیت بکسی کی بھی عزت افزائی شال پیش کر کے کی گئی۔ضلع اردو زبان سیل کی جانب سے تمام مندوبین کی عزت افزائی کی گئی۔محمد شفیق اے ڈی ایم محکمہ آفات نے اپنی تقریر میں اردو زبان کی اہمیت سے روشناس کراتے ہوئے بہار حکومت کی جانب سے اردو کے فروغ کیلئے کئے جارہے کارناموں کی ستائش کرتے ہوئے اعلی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی اور اردو اخبار خرید کر پڑھنے کی ترغیب دی۔انچارج آفیسر ضلع اردو زبان سیل نے بھی اپنے خطاب میں محبین اردو کو مبارکباد پیش کیا اور اردو زبان کی تعریف کی۔پھر طالبات کی تقریر کا آغاز ہوا شبستاں پروین؛ زیبا آفرین؛ متعلمہ نالندہ کالج؛عائشہ عالم؛ متعلمہ کسان کالج اور خاص طور پر،ذکیہ فردوس حسینی متعلمہ مدرسہ عزیزیہ بہارشریف نے اردو زبان کی اہمیت اور اس کے فروغ کے اسباب کے موضوع پر جامع مانع مدلل ومؤثر تقریر کی عائشہ پروین متعلمہ مدرسہ عزیزیہ بہارشریف نے اردو غزل کی مقبولیت کے اسباب پر عمدہ تقریر کی،تلفظ،لب و لہجہ،انداز بیان پر مغز تقریر سے سامعین خوب محظوظ ہوئے اور تالیوں کی گڑ گڑاہٹ سے پورا ہال گونج اٹھا اور ان پانچوں طالبات کو نقد انعام وتوصیفی سند سے نوازا گیا پروگرام بے انتہا کامیاب رہا محبین اردو کی کثیر تعداد میں شرکت ہوئی۔لیکن بہت ہی افسوس کا مقام ہے کہ اردو کے فروغ کے لیے اتنے بڑے پروگرام کا انعقاد ہو اور اردو کے صحافیوں کو نظر انداز کرنا،ترجیح نہ دینا،یہاں تک کہ پروگرام میں بیٹھنے کے لیے کرسی دستیاب نہ کرانا نہایت ہی افسوس کی بات ہے۔تمام اردو کے صحافی اردو کی فروغ کے لیے کافی کوشش کرتے ہیں لیکن ایسے وقت پر اسے نظر انداز کرنا کہیں سے بھی درست نہیں ہے۔کیا اس طرح کے اقدامات سے اردو حقیقت میں فروغ ہو سکتا ہے صرف اردو کا فروغ مشاعرہ اور تقریر کے ذریعے نہیں ہوگی اس کے لیے زمین پر آکر اردو کیلئے کام کرنا ہوگا۔اس موقع پر مدرسہ عزیزیہ کے پرنسپل مولانا شاکر قاسمی،صغریٰ کالج کے سیکرٹری ایم بی شہاب الدین ایڈوکیٹ،محمد جاوید قریشی کے علاوہ سینکڑوں لوگ موجود تھے۔











