
بہارشریف(محمد راشد عالم) نالندہ ضلع کے سیلاؤ بلاک میں واقع گورما پنکی پنچایت کے گورما گاؤں میں ایک تاریخی دریافت نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔گاؤں کے مغربی جانب 22 بیگھوں پر پھیلے تالاب کی کھدائی کے دوران ایک قدیم دیوار ملی ہے جس سے اس جگہ کی تاریخ سے جڑے نئے رازوں کے پردہ فاش ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے جب ہفتے کی دوپہر تالاب کی کھدائی کی جا رہی تھی تو مزدوروں کو زمین کے اندر ایک مضبوط اور ساختی دیوار نظر آئی۔جیسے ہی اس قدیم دیوار کی دریافت کی خبر پھیلی،پورے گاؤں میں تجسس بڑھ گیا اور کچھ ہی دیر میں وہاں ہجوم جمع ہوگیا۔ گاؤں والوں نے کھدائی کا کام فوراً روک دیا اور خود ہی اس قدیم ڈھانچے کو کھودنا شروع کر دیا،گاؤں کے بزرگوں کا کہنا ہے کہ اس تالاب سے پہلے بھی کئی بار بھگوان بدھ کی ٹوٹی ہوئی مورتیاں ملی ہیں۔خاص بات یہ ہے کہ کھدائی کے دوران جو اینٹیں ملی ہیں وہ قدیم نالندہ یونیورسٹی میں استعمال ہونے والی اینٹوں سے ملتی جلتی ہیں۔اس دریافت سے یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ یہ جگہ قدیم زمانے میں بدھ مت کے کسی اہم مقام یا تعلیمی ادارے کا حصہ بھی رہی ہوگی۔گاؤں والوں کے مطابق دیوار تقریباً 10 فٹ نیچے ملی ہے جس کی سبب یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ یہ کسی قدیم مندر،کنواں یا کسی اہم ڈھانچے کی باقیات ہو سکتی ہے،گاؤں والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جے سی بی مشین کے استعمال سے دیوار کے کئی اہم حصوں کو نقصان پہنچا ہے۔ تاہم،اس کا ایک حصہ اب بھی محفوظ ہے،جو ماہرین آثار قدیمہ کے لیے ایک اہم ثبوت بن سکتا ہے،گورما گاؤں سیلاؤ سے صرف 5 کلومیٹر مغرب میں اور قدیم نالندہ یونیورسٹی سے تقریباً 6 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔گاؤں کے بزرگوں کے مطابق امامہ ریاست کی ملکہ اس تالاب سے پانی لا کر پینے میں استعمال کرتی تھی۔لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کے اس تالاب میں پائی جانے والی قدیم دیوار کسی تاریخی ورثے کا حصہ ہو سکتی ہے جس کی تفصیلی خدائی سے اہم تاریخی حقائق سامنے اسکتے ہیں۔اس گاؤں کی تاریخ میں ایک نئی شناخت پیدا ہونے کی امید بڑی ہے یہ جگہ ایک اہم آثار قدیمہ کے طور پر ابھر سکتی ہے۔











