
بہارشریف(محمد راشد عالم) NEET پیپر لیک کیس کو لے کر ملک بھر میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئیں۔معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب اس پوری سازش کے ماسٹر مائنڈ نالندہ کے سنجیو مکھیا،اس کے بیٹے اور اس کے گینگ کا نام سامنے آیا۔پٹنہ پولیس کے علاوہ سی بی آئی اور اکنامک آفنس یونٹ (ای او یو) کو معاملے کی تحقیقات کی ذمہ داری دی گئی تھی،جب 8 ماہ سے مفرور سنجیو کمار نے خودسپردگی نہیں کی اور نہ ہی اسے گرفتار کیا،تو اقتصادی جرائم یونٹ کی ٹیم نے نگرنوسہ تھانہ علاقے کے شاہ پور بلبا گاؤں میں ملزم کے گھر پر ایک نوٹس چسپاں کیا۔منگل کو پٹنہ سے ای او یو کی ٹیم مقامی پولیس کی مدد سے گاؤں پہنچی اور قانونی طریقہ کار کے مطابق پوسٹر چسپاں کر دیا گیا۔جبکہ ان کے بیٹے ڈاکٹر شیو کمار کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے،اس معاملے میں سی بی آئی نے بہار،جھارکھنڈ،یو پی سمیت 33 مقامات پر تلاشی لی ہے اور 36 لوگوں کو گرفتار کیا ہے،جن میں سے 15 کو بہار پولیس نے گرفتار کیا ہے۔سی بی آئی نے 23 جون 2024 سے شاستری نگر پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر کو اپنے قبضے میں لے کر این ای ای ٹی پپر چوری اور لیک کیس کی تحقیقات شروع کی تھی۔ای او یو اور سی بی آئی حکام نے اب تک تین بار ماسٹر مائنڈ سنجیو مکھیا کے گھر اور دفتر پر چھاپے مارے ہیں،چھاپے کے دوران اہلکاروں نے 11.5 لاکھ روپے نقد،مختلف گاڑیوں کی خریداری سے متعلق دستاویزات،ایک درجن سے زیادہ موبائل فون اور لیپ ٹاپ برآمد کیے ہیں۔سنجیو مکھیا نالندہ کے نرسرائے ہارٹیکلچر کالج میں تکنیکی معاون کے طور پر تعینات تھے۔











