بہارشریف(محمد راشد عالم) نالندہ کے رکن پارلیمنٹ کوشلندر کمار نے پیر کے روز لوک سبھا میں قاعدہ 377 کے تحت نالندہ ضلع کے بھاگن بیگھہ پر وصول کیے جانے والے ٹول ٹیکس کا مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ بھاگن بیگھہ پر جمع ہونے والے ٹول ٹیکس کو فوری طور پر روک دیا جائے،کہا کہ بھاگن بیگھہ پر ایک ٹول پلازہ شروع کیا گیا ہے جہاں سے این ایچ میں ٹیکس وصولی شروع کی گئی ہےجس کی سبب بھاگن بیگھہ ٹول پلازہ کے آس پاس رہنے والے شہریوں کو اب پریشانی کا سامنا ہے۔کیونکہ لوگوں کو ٹیکس ادا کیے بغیر جانے نہیں دیا جا رہا ہے۔اس کی وجہ سے وہاں کے لوگوں میں حکومت کے خلاف کافی غصہ ہے،انہوں نے ہائی وے ٹیکس کلیکشن ایکٹ-2024 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹول پلازہ کے 20 کلومیٹر آس پاس رہنے والے شہریوں سے ان کی نقل و حرکت کی سہولت کے لیے ٹول ٹیکس وصول نہ کرنے کا انتظام ہے۔لہٰذا قواعد کے مطابق بھاگن بیگھہ کے آس پاس کے سوہوسرائے، بہار شریف، دیپ نگر، ہرنوت،بینا وغیرہ کے شہریوں سے ان کی پرائیویٹ گاڑیوں پر کوئی ٹول ٹیکس وصول نہیں کیا جانا چاہیے،معزز رکن اسمبلی نے وزیر ٹرانسپورٹ سے اس سلسلے میں فوری طور پر ضروری ہدایات جاری کرنے اور بھاگن بیگھہ میں وصول کیے جانے والے ٹول ٹیکس کو بند کرنے کی درخواست کی۔











