پٹنہ،3 مئی (پریس ریلیز)امارت شرعیہ بہار اڈیشہ جھارکھنڈ کے قائم مقام ناظم مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی نے اپنے ایک پریس بیان میں کہا کہ مرکزی حکومت نئے وقف قانون کے ذریعہ اوقافی جائیدادوں کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنا چاہتی ہے جس سے مسلمانوں اور ملک کے پسماندہ طبقات میں اضطراب اور بے چینی کی لہر دوڑ گئی ، اس سلسلہ میں آل انڈیامسلم پرسنل لا بورڈ کی تجویز اور امارت شرعیہ بہار اڈیشہ جھارکھنڈ کی مجلس شوریٰ، عاملہ اور ٹرسٹیوں کی قراردادوں کی روشنی میں امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مد ظلہ العالی رفقائے امارت کی معیت میں وقف ترمیمی قانون ۲۰۲۵ کی خطرناک شقو ں سے عام لوگوں کو واقف کرانے اور حکومت سے اس کو واپس لینے کے مطالبے کو لیکر میدان عمل میں سرگرم ہیں، حالیہ دنوں میں حضرت امیرشریعت کشن گنج کے اجتماع کو خطاب کیا پھر ۲؍ مئی کو بیتیا ، مغربی چمپارن، ڈھاکہ مشرقی چمپارن۳؍ کو مدھوبنی بھوارہ ہوائی اڈہ میں لاکھوں کے مجمع سے خطاب فرمایا کہ وقف کی جائیدادیں مسلمانوں کی دی ہوئی ہیں جنہیں مرکزی حکومت قانونی طریقے پر ہڑپنا چاہتی ہے جو کہ شریعت میں کھلی ہوئی مداخلت ہے اس لیے مسلمان اپنے مذہبی معاملات میں مداخلت کو برداشت نہیں کریں گے، انہوں نے لوگوں سے ہر قیمت پر اس ایکٹ کو واپس لینے تک تحریک کو جاری رکھنے کا عہد لیا، حضرت امیر شریعت اس کالے قانون کے خلاف ایک بڑی جمعیت کی ہم رکابی میں پیدل مارچ کرتے ہوئےدھرنا استھل پربھی تشریف لے گئے جہاں لوگوں کے درمیان خطاب کیا۔
حضرت امیر شریعت مد ظلہ العالی کی ہدایت وحکم سے بہار کےمتعدد اضلاع ارریہ، بھاگلپور،ویشالی، پورنیہ ، کشن گنج ،نالندہ ،سوپول ،مدھے پورہ، سیتا مڑھی، سہرسہ، بیگوسرائے ،سمستی پور ، جموئی، جھنجھارپور، بانکا، کٹیہار، جھارکھنڈ کے اضلاع گڈا ، گملا، رانچی ،رام گڑھ اور اڈیشہ کے راور کیلاو کٹک میں بہت کامیاب احتجاجی دھرنے اور پروگرام منعقد ہوئے اور اس کالے قانون کے خلاف انسانوں کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر نے بیک زبان بینر واشتہار کے ذریعہ صدائیں بلند کیں’’وقف ایکٹ ۲۰۲۵ واپس لو، واپس لو،یہ قانون ہم کو قبول نہیں‘‘ ہر جگہ کے احتجاج میں مقامی ذمہ داروں نے اس کالے قانون کے خلاف DMاور DCC کو میمورنڈم بھی پیش کیاجس میں مطالبہ کیا گیا کہ یہ قانون دستور ہند کے قطعی خلاف ہے سپریم کورٹ نے بھی اس پراپنے تشویش کا اظہار کیا اورمرکز سے جواب طلب کیا ہے کیونکہ یہ قانون غیر منصفانہ ہے اس لیے جتنی جلد ہو حکومت اس قانون کو واپس لے ۔











