
چھترگاچھ، کشن گنج 28 مارچ (پریس ریلیز) آج شاہی جامع مسجد چھترگاچھ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی اپیل پر عمل کرتے ہوئے سیکڑوں نمازیوں نے اپنے دائیں بازو پر کالی پٹی باندھ کر مرکزی حکومت کے مجوزہ وقف بورڈ ترمیمی بل کے خلاف خاموش مگر مؤثر احتجاج درج کرایا۔نماز جمعہ کے بعد مولانا آفتاب اظہر صدیقی (جنرل سکریٹری مجلس احرار اسلام، بہار) کی قیادت میں نمازیوں نے جامع مسجد سے باہر عیدگاہ کے احاطے میں پہنچ کر احتجاج کو مزید واضح کیا۔ اس موقع پر بی جے پی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی اور متنازعہ وقف بورڈ ترمیمی بل کو واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔مولانا آفتاب اظہر صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "یہ ترمیمی بل دراصل مسلمانوں کی مذہبی و سماجی خودمختاری پر ایک اور حملہ ہے۔ وقف املاک کی آزادی اور خود مختاری کو سلب کرنے کی کسی بھی کوشش کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہم حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس ظالمانہ بل کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔”مفتی افتخار نے اپنے بیان میں کہا کہ "وقف املاک، مسلمانوں کی امانت ہیں، اور ان پر کسی بھی غیر ضروری مداخلت کو قطعی قبول نہیں کیا جائے گا۔ اگر حکومت نے اپنے فیصلے پر نظرثانی نہ کی تو بڑے پیمانے پر ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔”معروف سماجی کارکن جناب نور الحق نے بھی احتجاجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "یہ بل دراصل وقف املاک کو سرکاری کنٹرول میں لینے کی ایک سازش ہے، جسے کسی بھی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔”احتجاج میں مختلف سماجی و مذہبی شخصیات نے شرکت کی جن میں سعید اختر (متولی اسرار وقف اسٹیٹ چھترگاچھ)، حاجی سہیل اختر، محمد نور الحق، مفتی افتخار، اشتیاق عالم، عادل ربانی، قاری انظر جمال، حافظ اشرف، شاہد بھائی، جناب سرفراز سمیت دیگر معزز شخصیات شامل تھیں۔احتجاج کے شرکاء نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے مسلمانوں کے جذبات کو نظرانداز کرتے ہوئے اس بل کو نافذ کرنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف نہ صرف قانونی بلکہ جمہوری اور پرامن مزاحمت کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔یہ احتجاج ملک بھر میں جاری دیگر احتجاجات کا ایک حصہ ہے، جس میں مسلمان اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس موقع پر عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ ہر سطح پر اس بل کے خلاف آواز بلند کریں تاکہ مسلمانوں کی وقف املاک کی آزادی برقرار رہ سکے۔











