
پٹنہ،11 مئی ،(پریس ریلیز): وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کا معاملہ صرف ایک سنگین مسئلہ ہی نہیں،بلکہ ہمارے ایمانی وجود ،مذہبی آزادی ،پرسنل لا پرکھلاہواحملہ اور ملک کے دستور کے ساتھ مضحکہ خیز کھلواڑہے،اسی لئے اس سلسلہ میں ملک کی تمام مذہبی جماعتیں اورانصاف پسند سماجی و سیاسی طبقے پوری طرح بے چین اور فکر مندہیں،وقف بل کے سامنے آنے کے بعدسے قانون بننے تک کے پورے مرحلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی تجویز اور امارت شرعیہ سمیت تمام ملی تنظیموں کے مشورے سے امیرشریعت حضرت مولانااحمدولی فیصل رحمانی مدظلہ کی قیادت میں خاص طور پر بہار،اڈیشہ ،جھارکھنڈ و مغربی بنگال میںاس تعلق سے جو کوششیں کی گئیںماضی میں اس کی مثال کم ملتی ہیں،سینکڑوں احتجاجی اجلاس ،جلوس اور دھرنے اور رائے بھیجنے کی تحریک ،میمورنڈم پیش کرنے کاسلسلہ اورمختلف جہتوں سے علماء،ائمہ،دانشوران،سماجی وسیاسی کارکنان کو بل اورایکٹ کے نقصانات سے واقف کرانے کاکام پوری مضبوطی کے ساتھ اب تک جاری رکھاگیا،اگرچہ حکومت کی طرف سے ایکٹ کی واپسی کاکوئی عندیہ ظاہر نہیںہوسکاہےاور معاملہ سپریم کورٹ میں بھی پیش ہے،مگر ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے مطالبے کے قبول ہونے تک اس دستوری ،آئینی ،اور شرعی وایمانی معاملہ کے لئے ہر موثر جدوجہد کو ساری رکھیں،اسی غرض سے آپ تمام ملی تنظیموں کے ذمہ داران کی یہ نشست حضرت امیرشریعت مدظلہ کی ہدایت پرآج منعقدہوئی تاکہ ہم لوگ سابقہ کوششوں کاجائزہ لیتےہوئےاگلے مرحلے کے لئے لائحہ عمل طے کرسکیں ،یہ باتیں امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا مفتی محمدسعیدالرحمن قاسمی نےمورخہ 10مئی 2025ءکوامارت شرعیہ کے میٹنگ ھال میںمنعقد ملی تنظیموںکی نشست میںاپنی افتتاحی گفتگومیں کہیںاورشرکاء میٹنگ سے اگلے مرحلے کے لائحہ عمل کے تعلق سے مشورہ پیش کرنے کی گزارش کی ،چنانچہ جمعیت علماءبہار کے ناظم ڈاکٹر فیض احمدقادری نےاپنی رائے پیش کرتے ہوئے کہاکہ مسئلہ جس قدرسنگین ہے جد وجہد کااسی قدرموثرہونابھی ضروری ہے،ہم لوگوںنے حضرت امیرشریعت کی قیادت میں اب تک جس طرح جدجہدکوجاری رکھاہے ان شاء اللہ مزید قوت کے ساتھ جیسی ضرورت ہوگی متحداور منظم انداز میںاس کوشش کوآگےبھی جاری رکھیں گے،ادارہ شرعیہ بہارکے ڈاکٹرفرید ،مومن کانفرنس کے صدر مولاناابوالکلام شمسی ،جماعت اسلامی کے نمائندہ قمر وارثی ان تمام ذمہ داروںنے اسی احساس کے ساتھ اپنے مفید مشورے پیش کئے اورحضرت امیرشریعت مدظلہ کو اپنی تنظیم کی طرف سے مکمل تعاون کی یقین دہا نی کرائی ،حضرت امیرشریعت مدظلہ نے اپنی صدارتی گفتگومیں تمام تنظیموں اور میٹنگ میںشریک جملہ نمائندوں کی سابقہ محنتوں اورمتحدہ کوششوں پر تشکر کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ جیسی متحدہ او رمنظم کوششوں کا سلسلہ جاری ہے ہمیں یقین ہے کہ اس کافائدہ اس وقف ایکٹ کی واپسی میں بھی ملے گااور یہ بیداری مستقبل میں بھی مسلمانوں کو اپنے مسائل کے سلسلہ میں بیداررکھے گی ،آپ نے کہا کہ ہمیں نہ تھکناہے نہ مایوس ہوناہےاورنہ کسی قسم کے خوف وہراس میں مبتلا ہوناہے،بلکہ آپ نے واضح طورپر فرمایا کہ مقصد کی اہمیت کے پیش نظر یہ تحریک جاری ہے اور ان شاء اللہ مقصد کے حصول تک جاری رہے گی، آج کی اس میٹنگ میں ملک کی صورت حال، وقف ایکٹ کے خلاف جاری تحریک اوراس کے مختلف پہلووں کوسامنے رکھتے ہوے مندرجہ ذیل تجاویز متفقہ طورپر منظورکی گئیں۔
میٹنگ کے شرکاء نے پہلگام میں پیش آمدہ دہشت گردانہ کارروائی کی شدیدلفظوں میں مذمت کرتے ہوئے اس سانحہ کو جارحیت کی بدترین مثال اورمذہب وانسانیت کو شرمساررکرنے والاسانحہ قراردیا،اورکہا کہ اس جارحانہ سانحہ کے خلاف جوکارروائی فوج اور حکومت کی طرف سے جاری ہے یقیناًپوراملک ایک آواز بن کر اس کارروائی کے ساتھ کھڑاہے۔
وقف ایکٹ کے خلاف جوتحریک ۵؍مئی تک مختلف صوبے اوراضلاع میں الگ،الگ جہتوں او ر نوعیتوں سےجاری رکھی گئیں وہ یقیناً اس تحریک کے لئے ایک خوش آئندبات ہے ،مگر ضروری ہے کہ ملک کی موجودہ صورت حال اور عدالت کی سماعت کی تاریخ کو نظرمیں رکھتے ہوئے ۱۵؍مئی کے بعد سے احتجاجی اجلاس ،دھرنوں اورجلوس کاسلسلہ شروع کردیاجائے۔
تمام مسلمانوں سےاپیل کی جاتی ہےکہ ہرہفتہ کی جمعرات کو روزہ رکھنے ،ہرجمعہ کو کالی پٹی باندھ کر مسجدجانے اور سنیچرکی شام کو مختلف جگہ اکھٹاہوکر موبائل کی لائٹ جلاکر احتجاج درج کرانے کااھتمام کریں اور اجتماعی روزہ افطارکی تصویر ،جمعہ کوکالی پٹی باندھنے اور موبائل کی لائٹ فضا میں لہراکر احتجاج کرنے کی تصویر میڈیااورشوشل سائٹ پر ضرورڈالیں۔
آج کی میٹنگ میںریاستی سطح پروقف ایکٹ کے خلاف ایک بڑے اجلاس کے انعقادپر بھی زوردیاگیااور شرکاء نے حضرت امیرشریعت مدظلہ سے گزارش کی کہ اس سلسلہ میں آپ جیسانقشہ بنائیں گے یاجوبھی ھدایت دیں گے ان شاءاللہ ہم سب آپ کے ساتھ کھڑے دکھیںگے۔میٹنگ میں مذکورہ حضرات کے علاوہ قاضی شریعت مولانامحمدانظارعا لم قاسمی ،نائب ناظم مفتی محمد ثناءالہدیٰ قاسمی،نائب ناظم مفتی محمدسہراب ندوی ،قائم مقام مفتی مولانااحتکام الحق قاسمی ،نائب قاضی مفتی وصی احمدقاسمی،مولانا رضوان احمد ندوی نائب مدیر نقیب ،نائب قاضی مولاناسہیل اخترقاسمی،معاون ناظم مولانااحمدحسین قاسمی،نائب قاضی مولانامجیب الرحمن قاسمی،معاون قاضی مولانامجیب الرحمن بھاگلپوری ،،اورمولاناارشدرحمانی وغیرہ بھی شریک رہے ۔اخیر میں حضرت امیرشریعت مدظلہ کی دعاپر میٹنگ اختتام پذیرہوئی ۔











