
جالے،28مارچ ( پریس ریلیز ): وقف ترمیمی بل 2024 کو لے کر ملک کے مسلمانوں میں کتنی ناراضگی وبے اعتمادی ہے اس کا مظاہرہ آج جمعة الوداع کے دن اپنے ہاتھوں پر کالی پٹی باندھ کر نہ صرف خاموش احتجاج کی شکل میں کر رہے ہیں بلکہ وہ اپنے اس عمل سے حکومت تک یہ پیغام پہونچانے کی کوشش کی کہ وقف خالص شرعی مسئلہ ہے اور اس کا واضح قانون و دستور العمل اسلام کے ابتدائی دنوں سے ہی جاری و ساری ہے،اس قانون کے مطابق جو زمین وقف کر دی جاتی ہے وہ اللہ کی ہو جاتی ہے اور مسلمانوں کی کمیٹی کے ذریعہ اس زمین کا استعمال مسلم قوم کے مفادات کے لئے کیا جاتا ہے، جن میں مساجد،عید گاہ، قبرستان اور مدارس ومکاتب کے قیام سے لے کر ویسے دگر رفاہی امور شامل ہیں جن کا تعلق مسلم قوم کے مفادات سے وابستہ ہوں،اس زمین کا معاملہ یہ ہے اسے نہ تو بیچا جا سکتا ہے اور نہ ہی وہ زمین اب کسی کو دی جاسکتی ہے لیکن موجودہ حکومت وقف کے موجودہ قانون میں بدلاو کر کے وقف کی زمین پر اپنا قبضہ جمانا چاہتی ہے جسے کسی بھی صورت اس ملک کا مسلمان قبول نہیں کر سکتا ہے،یہ باتیں آج جمعہ کی نماز سے قبل اسلامک مشن اسکول کے ڈائریکٹر مولانا محمد ارشد فیضی قاسمی نے اپنے بیان میں کہیں،انہوں نے جہاں نمازیوں کو حالیہ وقف ترمیمی بل کی باریکیاں سمجھائیں اور اس کے نقصانات سے مسلمانوں کو واقف کرایا وہیں انہوں نے کہا کہ جس چور دروازے سے حکومت وقف کی جائدادوں پر قبضہ کرنا چاہتی ہے وہ ہمیں منظور نہیں،کیوں کہ اس صورت میں ہمیں خطرہ ہے کہ اس کے بعد مسلم قوم کے ہاتھوں سے نہ صرف بہت سے مساحد ،عیدگاہ اور قبرستان کی زمینیں چھین لی جائیں گی ،بلکہ وقف کمیٹی کے ممبران میں غیر مسلموں کو شامل کرنے کا جو فارمولہ حکومت نے پیش کیا ہے اس سے آنے والے دنوں میں کئی طرح کی مشکلات سامنے آئیں گی،انہوں نے کہا کہ جمہوری قانون کے مطابق حکومت کی ذمہ داری وقف کی زمینوں کا تحفظ ہے لیکن موجودہ حکومت محافظ بن کر لوٹنے کے فراق میں ہے جو سراسر ظلم وناانصافی پر مبنی ہے،اگر حکومت اسی روش کے ساتھ آگے بڑھتی رہی تو لگتا ہے آنے والے دنوں میں مسلمانوں کو کسی بڑی آزمائش کے دور سے گزرنا ہوگا،بتادیں کہ نماز کے بعد مسلمانوں نے وقف ترمیمی بل کے خلاف خاموش احتجاجی مظاہرہ کیا،اس دوران انہوں نے اپنے ہاتھوں پر کالی پٹی باندھ رکھی تھی جوان کی اس قانون کو لے کر سخت ناراضگی کا اظہار تھا،جن میں سابق مکھیا نور عالم،الحاج صابر حسین،ماسٹر شمس الضحی جوہی،ماسٹر کشف الدجی لڈن،حافظ فخر عالم،حافظ عبدالہادی،حافظ محمد مہذب،محمد مصطفی کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں،اس موقع پر دوگھرا پنچایت کے سابق مکھیا نور عالم نے کہا کہ وقف کے معاملے میں اسلام کا صاف نظریہ ہے اس لئے اس میں حکومت کی کسی دخل اندازی کو ہم قبول نہیں کریں گے،انہوں نے کہا کہ حکومت کا یہ بل مسلمانوں کے خلاف گہری سازش کا حصہ ہے،لہذا ہمیں اپنے اوقاف کی حفاظت کے لئے لمبی لڑائی لڑنی ہوگی اور اس سلسلے میں اپنے بڑوں کت احکامات کے مطابق آگے بڑھنا ہوگا،انہوں نے کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور امارت شرعیہ جیسے ادارے سے ملک کے مسلمانوں کو جو بھی آواز دی جائے گی ہم ان کا احترام کریں گے۔











