
پٹنہ، 25 فروری 2025: سمراٹ اشوک کنونشن سینٹر واقع باپو آڈیٹوریم میں منعقد صدر پٹنہ میڈیکل کالج و ہسپتال (پی ایم سی ایچ) کی صد سالہ تقریب میں صدر جمہوریہ محترمہ دروپدی مرمو، گورنرجناب عارف محمد خان اور وزیر جناب اعلیٰ نتیش کمارشامل ہوئے۔
اس موقعہ پر منعقد پروگرام کو صدرجمہوریہ محترمہ دروپدی مرمو، گورنر جناب عارف محمد خان اور وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے خطاب کیا ۔
اپنے خطاب میں وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار نے کہا کہ میں پی ایم سی ایچ کے سو سال کے موقع پر منعقدہ پروگرام میں شامل ہونے کے لیے عزت مآب صدر جمہوریہ محترمہ دروپدی مرمو جی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں اس موقع پر موجود تمام مہمانوں کا خیرمقدم کرتا ہوں جن میں معزز گورنر جناب عارف محمد خان، مرکزی وزیر صحت اور خاندانی بہبود اور کیمیکل و فرٹیلائزر جناب جگت پرکاش نڈا سمیت تمام مہمانوں کا خیر مقدم کر تا ہوں ۔ آج کے اس پروگرام کے انعقاد کے لیے آپ سب کو مبارکباد پیش کر تا ہوں ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 25 فروری 1925 کو پی ایم سی ایچ قائم کیا گیا تھا۔ اس وقت ملک میں میڈیکل کالج اور ہسپتال بہت کم تھے۔ پی ایم سی ایچ کی خاص اہمیت رہی ہے۔ دوسری ریاستوں سے بھی لوگ یہاں علاج کے لیے آتے تھے۔ جب ہم انجینئرنگ کالج میں پڑھتے تھے تو پی ایم سی ایچ کے طلباء سے ملاقات کر تے تھے جو اس وقت ہمارے دوست ہوا کر تے تھے۔ ہمارا پی ایم سی ایچ سے خاص لگاؤ رہاہے۔ نومبر 2005 سے یہاں کام کرنے کا موقع ملا تو ہم نے صحت کے شعبے میں بہت کام کیا۔ یہاں 06 میڈیکل کالج اور ہسپتال تھے۔ اب یہاں 12 میڈیکل کالج اور ہسپتال ہیں اور 14 تعمیر ہو رہے ہیں۔ 8مقامات پر مرکزی حکومت تعمیر کر رہی ہے۔ ہم لوگوں نے سوچا ہے کہ ہم ہر ضلع میں میڈیکل کالج اور ہسپتال بنائیں گے۔ پی ایم سی ایچ کو 5400 بیڈ پر مشتمل عالمی معیار کا ہسپتال بنایا جا رہا ہے۔ اس کے پہلے مرحلے کی تعمیر تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔ دوسرے اور تیسرے مرحلے کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ ہم ہمیشہ اس کے تعمیراتی کام کا معائنہ کرتے رہتے ہیں۔ باقی 05 میڈیکل کالجوں اور ہسپتالوں کو 2500 بیڈ کا اسپتال بنایا جا رہا ہے۔ آئی جی آئی ایم ایس کو 3000 بیڈ کا اسپتال بنایا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ پہلے بہار کی کیا حالت تھی۔جب ہم لوگ 2005 میں حکومت میں آئے تو یہاں بہت سے ترقیاتی کام ہوئے۔ پہلے شام کے بعد کوئی گھر سے باہر نہیں نکل پاتا تھا۔ خوف کا ماحول تھا۔ اب لوگ دیر شب تک باہر رہتے ہیں اور بغیر کسی خوف کے اپنے کام کرتے ہیں۔ پہلے سڑکوں کی حالت بھی بہت خراب تھی، کہیں جانے کے لیے اچھی سڑکیں نہیں تھیں۔ جب میں مرکز میں وزیر اور ممبر پارلیمنٹ تو میں اپنے حلقے میں پیدل گھومتے تھے۔ ہم لوگوں نے اجھی سڑکیں تعمیر کیں ۔ انہوں نے کہا کہ پہلے کی حکومت میں کوئی کام نہیں ہوتاتھا۔ پہلے پڑھائی کا کوئی اچھا انتظام نہیں تھا۔ ہم نے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے بہت کام کیا۔ نئے نئے ا سکول اور کالج کھولے گئے۔ پنچایت سطح پر پڑھائی کے اچھے انتظامات کیے گئے ۔ خواتین کو پنچایتی راج اداروں اور میونسپل اداروں سمیت سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن دے کر ترقی دی گئی۔ بہار کو اپنی ترقی میں مرکز سے بھی تعاون مل رہا ہے۔ بہار بہت ترقی کرے گا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ آپ سب یہاں پروگرام میں آئے ہیں ۔ پی ایم سی ایچ کو عالمی معیار کا ہسپتال بنانے کے لیے بہت تیز رفتاری سے کام ہورہا ہے۔پہلے پرائمری ہیلتھ سینٹر میں ایک ماہ میں صرف 39 مریض علاج کے لیے آتے تھے۔ ہم نے سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات اور علاج کی بہتر سہولیات فراہم کی ہیں جس کی وجہ سے اب ایک ماہ میں اوسطاً 11 ہزار سے زائد مریض پرائمری ہیلتھ سینٹر میں علاج کے لیے پہنچ رہے ہیں۔ پہلے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان بہت جھگڑے ہوتے تھے۔ بہار میں ہماری حکومت بننے کے بعد اب کہیں بھی کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ سماج کے تمام لوگوں کے لیے خواہ وہ ہندو ہوں یا مسلم، جنرل ہو یا پسماندہ ہوں یا انتہائی پسماندہ، دلت ہوں یا مہادلت، سبھی لوگوں کی ترقی کے لیے کام کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عزت مآب صدر محترمہ دروپدی مرمو جی کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے پروگرام میں تشریف لا کر صدسالہ تقریب کے وقار کو بڑھایا۔ اور یہاں موجود لوگوں کا حوصلہ بڑھا یا۔ ریاستی حکومت پی ایم سی ایچ کی ترقی میں مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے۔ ہمیں مرکزی حکومت سے بھی تعاون مل رہا ہے۔ آئیے آپس میں پیار اور بھائی چارے کے ساتھ رہیں، ہم سب مل کر آگے بڑھیں۔
پروگرام میں پی ایم سی ایچ کے پرنسپل ڈاکٹر ودیا پتی چودھری نے وزیر اعلیٰ کو سبز پودا پیش کر کے خیر مقدم کیا۔











