
پٹنہ : بہار کے چیف پوسٹ ،ماسٹر جنرل مظفر ابدالی نے کہا کہ شاعری میں تنوع اور ارتقاء دونوں ہم قدم رہتے ہیں ۔علمی مجلس بہار کے زیر اہتمام شاعرہ ڈاکٹر فرحت یاسمین کے شعری مجموعہ یادوں کی وادیاں کا رسم اجراء بمقام گورنمنٹ اردو لائبریری کے بالائی منزل پر منعقد تقریب سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے تقریر کرتے ہوئے مظفر ابدالی نے اردو شاعری پر پرمغز تقریر کی اور فرحت یاسمین کو انکی کتاب یادوں کی وادیاں کے لئے مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ فرحت یاسمین اپنی شاعری میں تنو ع اور ارتقاء دونوںکا خیال رکھینگی ۔ اس کتاب کا اجراءاردو ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر ایس ایم پرویز عالم کے ہاتھوں ہوا انہوں نے اس موقع پر کہا کہ ڈاکٹر فرحت یاسمین کا شعری مجموعہ یادوں کی وادیاں کا میں نے مطالعہ کیا ہے ۔اس میں حمد ، نعت کے علاوہ نظمیں اور غزلیں شامل ہیں ۔ ڈاکٹر فرحت یاسمین کی شاعری فطری شاعری ہے ۔کوئی بناوٹ یا تصنع نہیں ہے ۔ اسلوب، خیالات ، جذبات و احساسات ، فکر و مشاہدہ اپنے طرز میں رنگے ہوئے ہیں ، غزل کی روایتوں کے احساس کے ساتھ کلام میں ندرت بیانی ، سنجیدگی وصداقت اظہار کی آمیزش ہے ۔ ۔ اس جشن اجراءکی صدارت کرتے ہوئے ارشد فیروز، چیرمین ، گورنمنٹ اردو لائبریری بے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ فرحت یاسمین کی نظموں میں کسک ہے ایک تپش ہے نظمیں بولتی ہوئی نظر آتی ہیں خود سے اور قاری سے بات کرتی ہوئی نظر آتی ہیں ۔ انہوں نے اپنی غزل اور نظموں میں آسان الفاظ کا استعمال کیا ہےجسے آسانی پڑھا اور سمجا جاسکے گا اور اس کتاب کی مقبولیت ملیگی یہ بہت اچھی اور حوصلہ افزا بات ہے کہ کتابیں منظر عام پر آرہی ہیں۔ آپ جیسے قلم کار کی محنت اور محبت کا نتیجہ ہے کہ آئے دن اردو سے متعلق کچھ دیکھنے اور سننے کا موقع ملتا ہے ۔
مہمانان اعزازی کی حیثیت سےڈاکٹر قاسم خورشید نے اپنے خطاب میں کہا کہ فرحت یاسمین عہد نو کی ایک عمدہ شاعرہ ہیں۔ انکے مطالعے اور مشاہدے کو ملحوظ رکھتے ہوئے مجھے یہ کہنے میں قطعی طور پر تامل نہیں ہے کہ اپنی شناخت ہی سب سے اہم اور دیر پا ہوا کرتی ہے ۔ میں یہ کبھی نہیںکہتا کہ ان پر پروین شاکر کے اثراتہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ ہر شخص اپنے انفرادیت سے جانا جاتا ہے ۔
معروف افسانہ نگار فخرالدین عارفی نے اس موقع پر کہا کہ فرحت یاسمین کی شاعری میں درد اور ٹیس ہے جس کا اظہار و بخوبی کرتی ہیں ۔ انکے بعض اشعار تو زندگی کا ثبوت دیتے ہیں ۔اس موقع پر ڈاکٹر آصف سلیم، ڈاکٹر نثار احمد فیضی، شمع کوثر شمع نے اس کتاب پر اپنا اپنا اظہار خیال پیش کیا ۔ علمی مجلس بہار کے جنرل سکریٹری پرویز عالم نے جلسہ کی نظامت شاندار طریقے سے کیا ۔ ڈاکٹر انوارالہدیٰ ، ڈاکٹر اعجاز رسول، ڈاکٹر اے علوی ،ڈاکٹر اشرف النبی قیصر، صابر سہرساوی، شمیم قاسمی ، اثر فریدی، عرفان بلہاروی، ڈاکٹر محبوب عالم ، لاڈلی کماری، رخسانہ صدیقی ، مصلح الدین کاظم ، پرویز انور،محمد نسیم الدین ، وارث اسلام پوری، عامرہ فردوسی، شرف الہدیٰ ، معصومہ خاتون وغیرہ شامل تھیں ۔











