
پٹنہ ،17مئی، (پریس ریلیز): آج ورلڈ ہائپرٹینشن ڈے کے موقع پر شعبہ ماہیت الامراض گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال پٹنہ کے زیر اہتمام ایک روزہ علمی اور بیداری پر مبنی سیمینار بعنوان’’Hypertension: A Silent Killer‘‘منعقد ہوا، جس میں ماہرینِ طب، مختلف شعبہ جات کے اساتذہ، پی جی اسکالرز اور طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس سلسلے کی جانکاری دیتے ہوئے پی جی اسکالر ڈاکٹرمحمد ظفر اقبال نے بتایا کہ پروگرام کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا جس کی سعادت پی جی اسکالرڈاکٹر امان اللہ جمالی نے حاصل کی۔ بعد ازاں خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے شعبہ ماہیت الامراض کے صدر اور سیمینار کے آرگنائزنگ چیئرمین ڈاکٹر محمدشمیم اختر نے حاضرین کا استقبال کیا اور پروگرام کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ہائی بلڈ پریشر ایک ایسا مہلک مرض ہے جو بغیر کسی خاص علامت کے انسانی جسم کو شدید نقصان پہنچاتا ہے اور بروقت تشخیص نہ ہونے کی صورت میں یہ دل، دماغ اور گردوں پر تباہ کن اثرات مرتب کر تا ہے۔تقریباً 25 فیصد آبادی اس مرض میں مبتلا ہے، اور ہر سال تقریباً 1 کروڑ افراد اس مرض کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہائی بلڈ پریشر سے بچا جا سکتا ہے اگر خطرات کے عوامل مثلاً غذا میں چربی، کھانے میں نمک وغیرہ کم استعمال ، سگریٹ نوشی سے پرہیز کیا جائے، موٹاپا کم کرنے کے لیے ریاضت کی جائے، ذہنی تناؤ سے بچا جائے اور باقاعدگی سے بلڈ پریشر چیک کروا کر ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کیا جائے۔ڈاکٹر شمیم اختر نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ یونانی نظامِ طب کو عصری تقاضوں سے ہم اہنگ کرتے ہوئے عوامی سطح پر اس طرح کے علمی پروگراموں کے ذریعے شعور و آگہی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کی ِ سرپرستی اور بہترمنصوبہ بندی سے اس سیمینار کا کامیاب انعقاد ممکن ہو سکا۔
ڈاکٹر سکینہ بانو نے World Hypertension Dayکی مناسبت سے بلڈ پریشر سے متعلق اہم نکات پر مشتمل ایک تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی، جب کہ ڈاکٹر سعدیہ تبسم نے حمل کے دوران ہائی بلڈ پریشر کے مضر اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے اس کے انسداد اور بہتر انتظام پر زور دیا۔ معروف ماہر طب ڈاکٹر ایس کے پنکج ,سینئر میڈیکل آفیسر گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال پٹنہ نے اپنے تجربات کی روشنی میں ہائی بلڈ پریشر کے مضر اثرات اور موجودہ دور کے چیلنجز پر اظہارِ خیال کیا۔
اس موقع پر مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک ممتاز ماہر قلب ڈاکٹر عادل احمد خان،ڈی ایم کارڈیولوجی، ایمس پٹنہ نے ایک جامع لیکچر پیش کیا جس میں انہوں نے ہائی بلڈ پریشر اور امراض قلب کے باہمی تعلق، وجوہات اور جدید علاج پر تفصیل سے گفتگو کی۔اس دوران پی جی اسکالرز کی جانب سے کئی سوالات بھی کیے گئے، جن کے تفصیلی اور تشفی بخش جوابات بھی دیے ، جس سے سامعین کے علم میں قابلِ قدر اضافہ ہوا۔
پروگرام کی صدارت کالج کے پرنسپل پروفیسر محمدمحفوظ الرحمٰن نے کی۔ اس پروگرام کو کامیابی سے ھمکنار کرنے ، اور ضروری اشیا کی فراہمی میں انکا رول قابل تحسین ہے۔ اس علمی نشست میں مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کرام نے شرکت کی جن میں شعبہ ماہیت الامراض کےپروفیسر توحید کبریا، ڈاکٹر ایس کے پنکج، اور اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ادیب احمد کے علاوہ، شعبہ حفظانِ صحت سے ڈاکٹر ملکہ بلنداختر؛ شعبہ علم الادویہ سے صدر شعبہ ڈاکٹر محمد انس، اور ڈاکٹر محمد نظام الدین؛ شعبہ معالجات سے صدر شعبہ ڈاکٹر نجیب الرحمٰن اور اور ڈاکٹر رضی احمد؛ شعبہ کلیات سے صدر شعبہ ڈاکٹر تنویر عالم، ڈاکٹر متانت کریم، ڈاکٹر جمال اختر اور پروفیسر رضوان احمد؛ شعبہ صیدلہ سے ڈاکٹر محمد یوسف انصاری؛ شعبہ علم الاطفال سے ڈاکٹر محمد شیبہ فیروز؛ جبکہ شعبۂ ای این ٹی سے ڈاکٹر خصال احمد شامل تھے۔ اس کے علاوہ آل انڈیا یونانی طبی کانگریس بہارکے صدر ڈاکٹر عبدالسلام فلاحی، ایسو سی ایشن اف یونانی فزیشین بہار کے جنرل سکریٹریڈاکٹر شفاعت کریم اور تمام شعبہ جات کے پی جی طلبہ و طالبات نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ یہ سیمینار جہاں طب یونانی کے طلبہ و طالبات کے لیے علمی رہنمائی کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوا، وہیں صحتِ عامہ سے متعلق شعور و آگہی کی ترویج میں بھی ایک مؤثر قدم قرار پایا۔
پروگرام کے کامیاب انعقاد میں کوآرڈینیٹرز کے طور پر ڈاکٹر محمد ظفر اقبال اور ڈاکٹر تنویر نور شعبہ ماہیت الامراض نے کلیدی کردار ادا کیا، جنہوں نے اپنی محنت، تنظیمی مہارت اور جذبے سے سیمینار کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔سیمینار کے اخیر میں پروفیسر توحید کبریا نے تمام مہمانانِ گرامی، مقررین، منتظمین اور شرکاء کا تہہ دل سے شکریہ۔











