
مظفرپور،22 مارچ(اسلم رحمانی)بہار قانون ساز کونسل کے رکن قاری صہیب نے بہار کی دوسری سرکاری زبان اردو کو بہار کی نتیش۔مودی کی حکومت کی جانب سے یوم بہار کے موقع پر نظرانداز کیے جانے پر انتہائی افسوس اور رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے پریس بیان میں وزیر اعلٰی نتیش کمار پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بہار دیوس جیسے سرکاری اور عوامی جشن میں ریاست کی دوسری سرکاری زبان اردو” کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جانا ایک سنگین ناانصافی ہے۔ کروڑوں روپے کی سرکاری رقم خرچ کی گئی، مگر کہیں بھی اردو زبان کا کوئی نشان، کوئی خیر مقدمی بینر یا کوئی اطلاع نظر نہیں آئی۔ یہ نہ صرف اردو داں طبقے کے جذبات کو مجروح کرتا ہے، بلکہ ریاست کے آئینی ڈھانچے، لسانی تنوع اور مساوی شراکت داری کے دعووں پر بھی سوالیہ نشان لگاتا ہے۔قاری صہیب نے کہا کہ اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ بہار کی تہذیب، ثقافت اور تاریخ کا ایک اہم اور ناقابلِ جدا حصہ ہے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار جی نے خود کئی مواقع پر اردو سے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہے، تو کیا انہیں اس بات کا نوٹس نہیں لینا چاہیے کہ ان کی حکومت میں اردو کے ساتھ یہ سوتیلا سلوک کیوں ہو رہا ہے؟ ایک طرف وہ اپنی تقاریر میں اردو الفاظ کا استعمال کرتے ہیں، اور دوسری طرف ریاستی تقریبات میں اردو کو مکمل طور پر خارج کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بہار حکومت کے اُس حالیہ فیصلے پر بھی سخت تشویش کا اظہار کرتا ہوں جس کے تحت 25 فروری 2025 کو کابینی سطح پر 1064 معاون اردو مترجمین کی تقرری کے لیے پہلے سے طے شدہ تھانوں کے عہدوں کو سرنڈر کر کے انہیں دوسری جگہوں پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ اردو زبان اور اردو بولنے والی آبادی کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے، جو ناقابلِ قبول ہے۔ برسوں پہلے یہ فیصلہ لیا گیا تھا کہ ہر تھانے میں ایک اردو مترجم یا اردو داں دروغہ تعینات کیا جائے گا، مگر اب حکومت خود اپنے وعدے سے منحرف ہو رہی ہے۔یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ میں نے بہار قانون ساز کونسل میں اردو زبان سے جڑے مسائل کو بارہا مؤثر انداز میں اٹھایا ہے۔ میں نے اردو مترجمین کی تقرری، اردو اساتذہ کی بحالی، اردو اداروں کی فعالیت اور اردو کو تعلیمی و سرکاری سطح پر جائز مقام دلانے کے لیے مسلسل آواز بلند کی ہے۔ میری متعدد تجاویز و سوالات ایوان میں ریکارڈ کا حصہ ہیں، جن کے ذریعے میں نے حکومت کو جھنجھوڑنے اور اردو داں طبقے کے مسائل کو سنجیدگی سے اٹھانے کی کوشش کی ہے۔مگر افسوس کہ حکومت کی بے حسی اور لاپرواہی بدستور قائم ہے۔ بہار اردو اکیڈمی، اردو مشاورتی کمیٹی، مدرسہ بورڈ اور اقلیتی کمیشن جیسے اہم ادارے یا تو غیر فعال ہو چکے ہیں یا اپنی افادیت کھو چکے ہیں۔ اردو کے ساتھ مسلسل کی جانے والی یہ ناانصافیاں اردو آبادی میں شدید مایوسی، ناراضگی اور عدم اعتماد کو جنم دے رہی ہیں۔لہٰذا، میں حکومتِ بہار، بالخصوص وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار سے پُرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ: بہار دیوس اور دیگر سرکاری تقریبات میں اردو زبان کو مناسب نمائندگی دی جائے۔اردو زبان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سوتیلے سلوک کا فوری نوٹس لیا جائے۔اردو داں عوام کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کیے جائیں۔1064 اردو مترجمین کی تقرری تھانوں میں ہی کی جائے اور پہلے سے طے شدہ عہدوں کو بحال کیا جائے۔بہار اردو اکیڈمی، اردو مشاورتی کمیٹی، مدرسہ بورڈ اور اقلیتی کمیشن کی فوری تشکیلِ نو کی جائے۔میٹرک کے نصاب میں اردو کو ایک لازمی مادری زبان کے طور پر شامل کیا جائے۔مانک منڈل میں اردو اساتذہ کا تقرر کر کے اردو زبان کو اس کا آئینی اور قانونی حق دیا جائے۔اردو داں افسران کی تقرری کو فروغ دیا جائے تاکہ اردو کے ساتھ متعصبانہ رویوں کا خاتمہ ممکن ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ صرف ایک زبان کی بات نہیں، بلکہ یہ شناخت، مساوات اور آئینی حقوق کی جدوجہد ہے۔ ہم خاموش نہیں رہیں گے، بلکہ جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے اردو کے تحفظ، فروغ اور انصاف کے لیے اپنی جدوجہد ہر سطح پر جاری رکھیں گے۔











