شام:شام میں ملٹری آپریشنز ڈیپارٹمنٹ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے عبوری دور کے دوران ملک کے صدر کا عہدہ احمد الشرع کو سونپ دیا ہے۔ شام کے سابق صدر بشار الاسد کی معزولی کے دو ماہ سے بھی کم عرصہ کے بعد نئے صدر کا تقرر کردیا گیا ہے۔
یہ اعلان "شامی انقلاب کی فتح کا اعلان کرنے والی کانفرنس” کے دوران کیا گیا۔ یہ کانفرنس بدھ کی شام دمشق میں منعقد کی گئی تھی۔ اس میں فوجی آپریشنز ڈیپارٹمنٹ کے مسلح گروپوں کے ارکان نے شرکت کی تھی۔ کرد فورسز پر مشتمل شامی جمہوری فورسز (SDF) نے شرکت نہیں کی۔ تاہم 18 دیگر دھڑوں کے ارکان موجود تھے۔ حاضر ہونے والے گروپوں میں ھیئہ تحریر الشام، تحریک احرار الشام ، جیش العزہ، جیش الشام، انصار التوحید، فیلق الشام، جیشن الاحرار، جیش الاسلام، حلقہ نور الدین زنگی اور الجبھۃ الشامیہ شامل تھے۔حیران کن بات یہ تھی کہ کانفرنس کے نتائج پر ان گروپوں کا ایک ایسی پوزیشن میں معاہدہ ہوا تھا جو پچھلے سالوں کے برعکس ایسا پہلا معاہدہ تھا۔ ماضی میں شام کے میدان میں ان میں سے بہت سے لوگوں کے درمیان مقابلہ اور لڑائی دیکھی گئی تھی۔ھیئۃ تحریر الشام نے بشار الاسد کا تختہ الٹنے کی لڑائیوں کے دوران فوجی کارروائیوں کی قیادت سنبھالی تھی۔ یہ شام کا سب سے مضبوط مسلح گروہ تھا۔ تاہم اس سے پہلے یہ گروپ بڑی تبدیلیوں سے گزرا ہے۔ اس کی بنیاد 2012 میں "النصرہ فرنٹ” کے نام سے رکھی گئی تھی، پھر اس گروپ نے القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ 2013 میں علیحدگی اختیار کرلی اور داعش سے اتحاد کرلیا تھا۔ 2016 میں یہ گروپ داعش سے بھی علیحدہ ہوگیا اور اس نے اپنا نام بدل کر ’’ ھیئہ تحریر الشام‘‘ رکھ لیا۔اس کے سب سے اہم عناصر میں "ریڈ بینڈز” گروپ ہے جسے "ھیئہ تحریر الشام” کی ایلیٹ فورسز سمجھا جاتا ہے۔ یہ گروپ بشار الاسد کی افواج کے خلاف حالیہ لڑائیوں کو حل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔جیش العزہ آزاد شامی فوج کا گروپ ہے۔ انہوں نے حکومت کا تختہ الٹنے کی لڑائیوں میں حصہ لیا۔ اس کے ارکان شمالی شام خاص طور پر حماۃ کے دیہی علاقوں میں بھی سرگرم رہے۔ اس گروپ کی قیادت میجر جمیل الصالح کر رہے ہیں۔جیش الاسلام شام کے منظر نامے پر سب سے مضبوط دھڑوں میں سے ایک تھا اور اس کی پوزیشن دمشق کے علاقے مشرقی غوطہ میں مرکوز تھی۔ تاہم اسے ایک معاہدہ کرنے پر مجبور کیا گیا جس کے تحت اس نے برسوں پہلے اس علاقے کو شمالی شام کی طرف چھوڑ دیا۔یہ ملک کے شمال میں شام میں جنگ کے آغاز میں بننے والے اولین دھڑوں میں سے ایک تھا۔ یہ منظر نامے کے مضبوط ترین دھڑوں میں سے ایک تھا لیکن 2014 میں اسے اس وقت شدید دھچکا لگا جب طیاروں نے اس کے زیر زمین ہیڈ کوارٹرز کو اس وقت نشانہ بنایا جب اس کے رہنما ایک میٹنگ میں تھے۔ اس حملے میں کم از کم 40 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔
درعا کے دھڑے دمشق پہنچنے والے حزب اختلاف کے پہلے گروپوں میں سے تھے۔ یہ سابق حکومت کے وزیر اعظم کو محفوظ بنانے میں کامیاب ہوئے۔ شام کے حالات ٹھیک ہونے تک وزیر اعظم کو اپنے فرائض سنبھالنے کا کہا گیا۔احمد الشرع کو شام میں عبوری دور کے صدر کے طور پر تعینات کردیا گیا۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب العربیہ کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ شام میں قومی مذاکراتی کانفرنس شرائط کی کمی کی وجہ سے اگلے نوٹس تک ملتوی کر دی گئی ہے۔شام میں نئی انتظامیہ کے کمانڈر انچیف احمد الشرع نے بدھ کے روز اس بات کی تصدیق کی کہ شام کی آج کی ترجیحات میں اقتدار کے خلا کو پر کرنا، شہری امن کا تحفظ، ریاستی اداروں کی تعمیر، ترقیاتی اقتصادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے کام کرنا اور شام کی علاقائی اور بین الاقوامی حیثیت کی بحالی ہے۔احمد الشرع نے ’’ شامی فتح کا اعلان‘‘ کے نام سے کانفرنس کی سرگرمیوں کے دوران ملٹری آپریشن ڈیپارٹمنٹ اور شامی انقلابی فورسز کے گروپوں کی موجودگی میں کہا کہ کچھ ماہ قبل دمشق نے میرے لیے اس طرح کی تیاری کی تھی جیسے ایک سرشار ماں اپنے بچوں کو مدد کی متلاشی نظروں سے دیکھتی ہے۔












