عبدالعزیز،9831439068
اردو کے تقریباً 160 اخبارات میں خاکسار کے دو یا دو سے زائد مضامین روزانہ اشاعت کے لئے بھیجے جاتے ہیں۔ مضامین کے تعلق سے ملک کے طول و عرض سے روزانہ دو چار افراد مجھے فون کرتے ہیں اور اپنے رد عمل کا برملا اظہار کرتے ہیں۔ کبھی مشورہ چاہتے ہیں اور کبھی مشورہ دیتے ہیں۔ حسب معمول آج بھی صبح سے لے کر 12بجے تک دو تین فون آیا۔ ایک صاحب نے لکھنؤ سے فون کیا۔ انھوں نے ملک کی تشویشناک صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ آج (6دسمبر)لکھنؤ کی ایک جامع مسجد پر شرپسندوں نے حملہ کیا اور کہاکہ یہ پہلے مندر تھی اور یہ ہندوؤں کو ملنا چاہئے۔ اس پر انھوںنے ملک کے حالاتِ حاضرہ کو مسلمانوں کےلئے تکلیف دہ اور خطرناک بتایا۔ اپنی طرف سے انھوں نے مسلمانوںکو مشورہ دیا کہ محلہ وار اور گاؤں کی سطح پر مسلمانوں کو کمیٹیوں کی تشکیل کرنا چاہئے ۔ ایسی کمیٹی ہو جس میں صرف مسلمان ہوں اورایسی بھی کمیٹی ہوسکتی ہے جس میں مسلمان اور انصاف پسند برادرانِ وطن بھی ہوں تاکہ روز مرہ کی زندگی میں مسلمانوں پر جو حملے ہورہے ہیں اور آفت برپا ہے اس کا کچھ نہ کچھ تدارک ہوسکے۔
چوبیس گھنٹہ مسلمان مسلمان: مذکورہ فون سے پہلے ایک ویڈیو میں مشہور و معروف صحافی اور اینکر جناب رویش کمار کو یہ کہتے سنا کہ” چوبیس گھنٹہ مسلمان مسلمان۔ آخر ایسا کیا ہوگیا ہے ، کیوں مسلمانوں سے نفرت ہوگئی ہے ؟ وہ تو تمہارے پڑوس میں رہتے ہیں۔ ان کے گھروں کا دروازہ کھول کر دیکھو وہ پڑھتے ہوئے یا اپنا کام کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ آخر ان کو کتنا ڈراؤگے۔ اس لئے ڈراؤگے کہ تمہاری پاس ٹی وی چینل ہے۔ آزادی کی لڑائی میں تو ہندو مسلمان سب ساتھ تھے، سب نے مل کر آزادی کی لڑائی لڑی“۔
اس سے ملتی جلتی بات اکثر رویش کمار کہتے رہتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کو بھی بہت ہی صحیح مشورے دیتے ہیں اور غیر مسلموں کو بھی کار آمد مشوروں سے نوازتے ہیں۔ وہ غیر مسلموں سے کھلم کھلا پوری صفائی کے ساتھ فرقہ پرستوں کے عزائم اور منصوبوں کا ذکر کرتے ہیں۔ ان کو بتاتے ہیں کہ ”فرقہ پرستی نہ صرف مسلمانوں کے لئے ناسور اور خطرناک ہے بلکہ جتنا ناسور اور خطرناک مسلمانوں کے لئے ہے اس سے کہیں زیادہ غیر مسلموں کے لئے ہے۔ غیر مسلم لڑکیوں کو ان کی موجودگی میں مشورہ دیتے ہیں کہ جو لڑکے یا مرد چوبیس گھنٹہ مسلمانوں سے نفرت کرنا سکھاتے ہیں، لڑائی جھگڑے کی تعلیم دیتے ہیں یا ایسے لڑکے اور ایسے مردوں سے ہر گز شادی نہیں کرنا، کیونکہ لڑاکو اور فسادی کسی کے لئے بھی کارآمد نہیں ہوتے۔ سانپ سانپ ہوتا ہے، وہ ہندو مسلمان نہیں دیکھتا۔ فرقہ پرست حیوان نما انسان ہوتے ہیں ان کو انسان کہنا بھی غلط ہے“۔ رویش کمار جس بےباکی کے ساتھ حق گوئی کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ کوئی بہادر اور انصاف پسند ہی کرسکتاہے۔ حق گوئی اوربیباکی کا مظاہرہ کرنا کسی بزدل کا کام نہیں ہوتا۔ رویش کمار کو دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں۔ ان پر وقتاً فوقتاً حملے بھی ہوتے ہیں۔ ان کو معلوم بھی رہتا ہے کہ اس سے ان کے کیریئر اور زندگی پر نمایاں اثر ہوگا۔ ان کی حق گوئی اور بیباکی ہی ہے جس کی وجہ سے ’این ڈی ٹی وی‘ جیسے قومی نیوز چینل سے مستعفی ہونا پڑا۔ اقبال نے سچ کہا ہے کہ ’ آئین جواں مرداں، حق گوئی وبیباکی‘۔ ’6دسمبر کو صرف بابری مسجد نہیں ٹوٹی بلکہ بہت کچھ ٹوٹا‘ (بہت کچھ ٹوٹتا رہے گا)
گزشتہ روز شری رام دت ترپاٹھی کا ایک مضمون بعنوان: ’6دسمبر کو صرف بابری مسجد نہیں ٹوٹی بلکہ بہت کچھ ٹوٹا‘ترتیب دے کر اردو اخبارات میں اشاعت کے لئے بھیجا۔ رام دت ترپاٹھی ملٹی میڈیا جرنلسٹ اور قانونی مشیرکار ہیں۔ ’بی بی سی ‘ ہندی کے 1992ءسے 2013ءتک نامہ نگار تھے۔ اس وقت ’اینڈیپنڈنٹس جرنلسٹ، میڈیا اور مشیرکار ہیں۔لکھنؤمیں رہتے ہیں ۔ موصوف نے بابری مسجد کے شروع سے لے کر آخر تک جو واقعات پیش آئے ہیں نہایت اختصار سے پیش نظر مضمون میں لکھا ہے۔ یہ مضمون آج (7دسمبر) اردو کے کئی اخبارات میں شائع ہوئے ہیں۔ کرناٹک کے اخبار ’روزنامہ سالار‘ میں بھی شائع ہوا ہے۔ کرناٹک کے ایک ضلع سے جناب قاضی محمد اقبال کا میرے پاس چند گھنٹے پہلے فون آیا۔ پہلے انھوں نے خاکسار کا شکریہ ادا کیا۔ خاص طور پر ترپاٹھی صاحب کے مضمون کی غیر معمولی تعریف کی اور کہاکہ انھیں پہلی بار ایسا جامع مختصر مضمون پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اس میں وہ سارے واقعات ہیں جو بابری مسجد کے تعلق سے روزِ اول سے آخر تک رونما ہوئے۔ انھوں نے اپنے انداز سے مسلمانوں کو ان کی زبوں حالی اور پریشان حالی دور کرنے کے لئے بہت سے کارآمد مشور ے دیئے۔ اپنے بارے میں بتایا کہ وہ ایک ہائی اسکول کے ریٹائرڈ پرنسپل رہ چکے ہیں۔ عمر ان کی 75سال کی ہے۔ ترپاٹھی صاحب کے مضمون کے عنوان کو بیان کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ بابری مسجد سے بہت کچھ ٹوٹا ہے اور بہت کچھ ٹوٹتا رہے گا۔ یہ ایک ایسا زخم ہے کہ اس زخم کو بھرنا آسان نہیں ہے۔ اور توڑنے والے بھی چین کی زندگی نہیں گزار سکیں گے۔ وہ جیتے جی بھی مرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ مسلمانوں کے بارے میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ مسلمان حالات حاضرہ سے سبق لینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ وہ قرآن ضرور پڑھتے ہیں مگر نہ وہ قرآن پر عمل کرتے ہیں اور نہ دنیا کو عمل کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ آخر میں انھوں نے ماجد دیوبندی کا ایک شعر سنایا ’ہر لفظ کو سینے میں بسالو تو بنے بات – طاقوں میں سجانے کو یہ قرآن نہیں ہے‘۔ پھر موصوف نے وہ حدیث سنائی جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگی مگر ان کا رعب و دبدبہ نہیں ہوگا۔ موصوف سے میں نے دریافت کیا کہ اس موضوع پر سب سے اچھی نظم مولانا ماہر القادری کی ہے جس کا عنوان ہے ”قرآن کی فریاد“۔ پھر میں نے ان کی گزارش پر یہ نظم سنائی۔
طاقوں میں سجایا جاتا ہوں ، آنکھوں سے لگایا جاتا ہوں
تعویذ بنایا جاتا ہوں ، دھودھو کے پلایا جاتا ہوں
جزدان حریر وریشم کے ، اور پھول ستارے چاندی کے
پھر عطر کی بارش ہوتی ہے ، خوشبو میں بسایا جاتا ہوں
جس طرح سے طوطے مینا کو ، کچھ بول سکھاے جاتے ہیں
اس طرح پڑھایا جاتا ہوں ، اس طرح سکھایا جاتا ہوں
جب قول وقسم لینے کے لیے ، تکرار کی نوبت آتی ہے
پھر میری ضرورت پڑتی ہے ، ہاتھوں پہ اُٹھایا جاتا ہوں
دل سوز سے خالی رہتے ہیں ، آنکھیں ہیں کہ نم ہوتی ہی نہیں
کہے کو میں اک اک جلسہ میں ، پڑھ پڑھ کے سنایا جاتا ہوں
نیکی پہ بدی کا غلبہ ہے ، سچائی سے بڑھ کر دھوکا ہے
اک بار ہنسایا جاتا ہوں ، سو بار رولایا جاتا ہوں
یہ مجھ سے عقیدت کے دعوے ، قانون پہ راضی غیروں کے
یوں بھی مجھے رسوا کرتے ہیں ، ایسے بھی ستایا جاتا ہوں
کس بزم میں مجھ کو بار نہیں ، کس عُرس میں میری دھوم نہیں
پھر بھی میں اکیلا رہتا ہوں ، مجھ سا بھی کوئی مظلوم نہیں
قرآن والوں کا حقیقی مصداق صحابہ کرامؓ پھر ان کے متبعین تھے۔ جب انھوں نے قرآن مجید کو سینے سے لگایا اور قرآن والے ہوگئے تو اللہ ان کا ہوگیا۔ پھر پوری دنیا ان کی ہوگئی۔ آج جب ہم نے قرآن چھوڑ دیا، قرآن کے حقوق سے لاپروائی کی، اس کی بے حرمتی کی ، طاقوں میں سجاکر رکھ دیا یا چند موقعوں کے لئے خاص کرلیا تو اللہ کی نظر کرم بھی ہم سے ہٹ گئی۔ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اس کتاب کے ذریعے کچھ لوگوں کو سرفرازی اور سربلندی عطا فرمائے گا اور کچھ لوگوں کو اس سے غفلت و لاپرواہی کی وجہ سے ذلیل و خوار کرے گا“۔ (مسلم) علامہ اقبالؒ نے قرآن مجیدپر بے شمار اشعار کہے ہیں۔ حقیقت تو یہی ہے کہ ان کی شاعری قرآن کی غیر معمولی ترجمانی ہے۔ قرآن پر ان کا ایک شعر بہت مشہور ہے ؎
’وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہوکر ‘
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا قول ہے ”ہمارے لئے قرآن کے الفاظ اور آیات کا یاد کرنا مشکل ہے مگر اس پر عمل کرنا نہایت آسان ہے جبکہ ہمارے بعد آنے والوں کےلئے قرآن کو یاد کرنا بہت آسان ہوگا مگر اس پر عمل کرنا انتہائی مشکل“۔ (الجامع الاحکام القرآن)
حضرت سیدنا عبداللہ ابن عمرؓ کا قول ہے : ”اس امت کی ابتدائی دور کے کبائر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قرآن کریم کی ایک سورہ یا اس سے کچھ زیادہ حفظ ہوتا تھا مگر اس پر عمل کرنے کی توفیق پوری تھی؛ جبکہ اس امت کے آخری لوگوں کے بچے بچے کو بلکہ نابیناؤں تک کو قرآن حفظ ہوگا مگر اس پر عمل کرنے کی توفیق نا ہوگی“۔ (الجامع الاحکام القرآن)












