سرینگر، جموں کشمیر میں صنعتوں کو بڑھائوا دینے کیلئے جموں و کشمیر میں 42 نئی انڈسٹریل اسٹیٹس قائم کی جا رہی ہیں جن کیلئے حکومت نے 48,301 کنال اضافی اراضی مختص کی ہے۔ مزید یہ کہ 34,292 کروڑ روپے کی مجوزہ سرمایہ کاری اور 1.54 لاکھ افراد کے روزگار کے امکانات کے ساتھ 3379 درخواستوں کو منظوری دی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق جموں کشمیر میں نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے اور صنعتوں کو فروغ دینے کیلئے حکومتی اقدامات جاری ہے جس کے چلتے جموں و کشمیر میں 42 نئی انڈسٹریل اسٹیٹس قائم کی جا رہی ہیں جن کیلئے حکومت نے 48,301 کنال اضافی اراضی مختص کی ہے۔ سرکاری دستاویز کے مطابق اس وقت 5294 صنعتی یونٹس 67 صنعتی اسٹیٹس میں کام کر رہے ہیں جنہیں سڈکوں اور سکاپ نے 37,341 کنال اراضی پر تیار کیا ہے جس سے 1.09 لاکھ لوگوں کو روزگار مل رہا ہے۔42 نئی انڈسٹریل اسٹیٹس کی ترقی کیلئے اضافی 48,301 کنال اراضی مختص کی گئی ہے۔ ان میں سے ارکان اور این بی سی سی ترجیحی بنیادوں پر 19 نئی انڈسٹریل اسٹیٹس تیار کریں گے اور اس سلسلے میں انڈسٹریز اینڈ کامرس ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے مفاہمت کی یادداشت کے مسودے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔دستاویز کے مطابق سنگل ونڈو پورٹل پر بالترتیب 65,000 کروڑ روپے اور 3.12 لاکھ افراد کی سرمایہ کاری اور روزگار کے امکانات کے ساتھ صنعتی یونٹس قائم کرنے کے لیے زمین کی الاٹمنٹ کے لیے 5327 آن لائن درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔ ان میں سے 3379 درخواستوں کو اب تک منظور کیا گیا ہے جس میں 34,294 کروڑ روپے کی مجوزہ سرمایہ کاری اور 1.54 لاکھ افراد کے روزگار کے امکانات ہیں۔ دستاویز میں کہا گیا کہ جموں کشمیر حکومت آئی ٹی ٹاورز کے لیے 54 کنال اراضی اور شاپنگ مال کے لیے 100 کنال اراضی کی نشاندہی کرنے کے عمل میں ہے جس میں بالترتیب 4500 اور 7500 افراد کو ملازم رکھنے کی صلاحیت ہے ۔ دستاویز میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم کے روزگار گارنٹی پروگرام کے تحت گزشتہ 4 سالوں کے دوران 765.97 کروڑ روپے کی مارجن منی تقسیم کی گئی جس سے 35,648 خود روزگار یونٹس قائم کیے گئے جو 3.31 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کر رہے ہیں۔












