
پٹنہ، 04 مارچ۔ بہار قانون ساز اسمبلی کے بجٹ اجلاس کا آج تیسرا دن ہے۔ بجٹ میں خواتین کو ماہانہ 2500 روپے نہ دینے پر اپوزیشن نے جہاں قانون ساز اسمبلی میں ہنگامہ کھڑا کیا وہیں قانون ساز کونسل میں بھی ریزرویشن کی حد بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہنگامہ کیا۔ آر جے ڈی اور سی پی آئی (ایم ایل) کے قانون ساز کونسل کے اراکین نے سابق سی ایم رابڑی دیوی کی قیادت میں مظاہرہ کیا۔ اپنے مطالبات پر آواز بھی اٹھائی۔رابڑی دیوی کی قیادت میں اپوزیشن ارکان نے قانون ساز کونسل میں ہنگامہ کیا۔ اپوزیشن ایم ایل سی نے کہا کہ ذات پر مبنی مردم شماری کے بعد بہار میں ریزرویشن کوٹہ بڑھایا جانا تھا لیکن نتیش حکومت نے اب تک اس میں اضافہ نہیں کیا ہے۔ اپوزیشن نے الزام لگایا کہ حکومت جان بوجھ کر بہار میں ریزرویشن کوٹہ نہیں بڑھا رہی ہے۔آر جے ڈی لیڈروں نے حکومت پر پسماندہ اور دلت مخالف ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ رابڑی دیوی نے ہاتھ میں پوسٹر لے کر مظاہرہ کیا، جس میں ‘جس کی جتنی سنکھیا (تعداد) بھاری، اس کی اتنی حصہ داری‘ لکھا تھا۔ اس دوران آر جے ڈی ایم ایل سی قاری صہیب نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لوگ دلت مخالف اور پسماندہ و انتہائی پسماندہ مخالف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہار میں ریزرویشن کوٹہ میں اضافہ نہیں ہونے دیا جا رہا ہے۔دریں اثنا بہار کے بجٹ کے بارے میں آر جے ڈی ایم ایل سی نے کہا کہ حکومت نے نہ تو غریبوں، مزدوروں اور کسانوں کا خیال رکھا اور نہ ہی خواتین اور نوجوانوں کے بارے میں کوئی اعلان کیا۔ اس دوران این ڈی اے کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آر جے ڈی لیڈروں کی سمجھ بوجھ پر اٹھائے گئے سوال پر قاری صہیب نے کہا کہ تیجسوی یادو جب 2020 میں نوکریوں کی بات کرتے تھے تو وزیر اعلیٰ اور این ڈی اے والے سوال اٹھاتے تھے، لیکن اپوزیشن لیڈر نے نائب وزیر اعلیٰ بن کر دکھایا کہ نوکریاں کیسے دی جاتی ہیں اور پیسہ کہاں سے آتا ہے۔











