صادق شروانی
نئی دہلی،12؍جولائی،سماج نیوز سروس: دہلی فسادات کے معاملے میں عام آدمی پارٹی کے نہرو وہار سے سابق کونسلر طاہر حسین کو دہلی ہائی کورٹ سے راحت ملی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے طاہر حسین کو 5 مقدمات میں ضمانت دے دی ہے۔ ساتھ ہی انہیں کچھ شرائط سے بھی پابند کیا گیا ہے۔ تاہم انہیں دیگر مقدمات میں ضمانت نہیں مل سکیہے اس لیے فی الحال ان کی رہائی ممکن نہیں اور وہ جیل میں ہی رہیں گے۔
طاہر حسین کی ضمانت پر دہلی ہائی کورٹ کے جج جسٹس انیش دیال کی بنچ میں فیصلہ سنایا گیا۔ خیال رہے کہ طاہر حسین کے خلاف دیال پور تھانے میں پانچ ایف آئی آر درج کی گئی تھیں۔ جس کی بنیاد پر ان کے خلاف قتل کی کوشش، ہنگامہ آرائی اور مجرمانہ سازش کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔طاہر حسین پر فسادات سے متعلق کل 12 مقدمات درج ہیں۔ جس میں ای ڈی نے منی لانڈرنگ کیس میں ان کے خلاف ای سی آئی آر درج کیا ہے۔ جبکہ 11 ایف آئی آ ر میں سے ایک بھی یو اے پی اے کے تحت دہلی فسادات کی وسیع تر سازش کے الزام میں شامل ہے۔یاد رہے کہ طاہر حسین کو دہلی فسادات کے دوران آئی بی انسپکٹر انکت شرما کے قتل سمیت دیگر کئی معاملات میں ملزم بنایا گیا ہے۔ طاہر حسین پر دہلی فسادات کی سازش کرنے کا بھی الزام ہے۔ سال 2020 میں، یہ فسادات فروری میں شمال مشرقی دہلی میں ہوئے اور بہت سے لوگوں کی جانیں گئیں۔ طاہر حسین پر فسادات بھڑکانے اور فنڈنگ کرنے کے علاوہ کئی دیگر الزامات بھی عائد کئے گئے ہیں۔ طاہر حسین فسادات کے وقت عام آدمی پارٹی کے کونسلر تھے لیکن بعد میں پارٹی نے انہیں نکال دیا تھاجس پر دہلی کے مسلمانوں نے پارٹی کے کنوینر اور وزیر اعلی پر یکطرفہ کارروائی کرنے کا الزام عائد کیا تھا عدالت کے فیصلےپر طاہر حسین کی اہلیہ شمع انجم نے نمائندہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پانچ معاملوں میں انکو ضمانت ملی ہے یہ خوشی کی بات ہے عدالت پر مجھے پورا بھروسہ ہے ہمارے بچوں اور تمام لوگوں کی دعا کا اثر ہے اور میں انسے مزید اپیل کرتی ہوں کہ ہمارے لئے دعا کرتے رہیں مجھے امید ہے کہ انشااللہ باقی معاملوں میں بھی انکو جلد ضمانت ملے گی اور رہائی بھی ملے گی ابھی 7معاملوں میں ضمانت ملنا باقی ہے کچھ کیس کڑکڑڈوما کورٹ اور کچھ معاملے ہائی کورٹ میںزیر التوا ہیں۔
محترمہ شمع انجم نے مزید کہا کہ جس طریقے سے میرے شوہر طاہر حسین کو پانچ معاملوںمیں ضمانت حاصل ہوئی ہے، اس سے میرے حوصلے میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوںنے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ بھارت کی عدلیہ پر پورابھروسہ ہے، بچوں سمیت ہمارے تمام علاقے کے لوگ ا ور وہ بھی جن کا ہمارے علاقے سے کوئی تعلق نہیں ہے میں ان کی بھی شکر گزار ہوں جنہوںنے میرے شوہر کو بے قصور ثابت کرنے کےلئے دعا کی ہے۔ میں دیکھتی ہوں کہ سوشل میڈیا پر جب بھی فرقہ پرستوں کے ذریعہ ان کو مجرم ثابت کرنے کی پوسٹ ڈالی جاتی ہے تو لوگ ان کو بے قصور ثابت کرنے کےلئے اللہ سے دعا کرتے ہیں، اس طر ح کے ہزاروں اور لاکھوں کمنٹ ہیں جس میں اپنی رائے رکھتے ہوئے کہاہے کہ طاہر حسین نے ایسا کوئی کام نہیں کیا ہے جس کےلئے انہیں سلاخوں کے پیچھے ڈالا گیا ہے۔ انہوںنے مزید کہاکہ ہمارے پڑوس میں غیرمسلم لوگوں نے عدالت اور پولس کو ایفی ڈیوٹ تک دیا گیاجس میں بتایاگیاکہ طاہر حسین بےقصور ہیں انہیں جلد رہا کیا جائے۔
واضح رہے کہ گزشتہ فروری 2020 میں شمال مشرقی علاقے میں فساد ہوا تھا جس میں تقریباً 52لوگوں کی موت ہوئی تھی اوراس میں مرنے والوں کی تعداد کی بات کی جائے تو اقلیتی طبقے کے تقریباً35لوگ جاں بحق ہوئے تھے۔ دہلی اقلیتی کمیشن کے ذریعہ تشکیل دی گئی کمیٹی نے اس طرح کی بہت سی رپورٹ شائع کیں جس میں ملزمان کی شناخت سیدھے طورپر کی گئی لیکن ان سفارشات پر آج تک عمل نہیں ہوا ہے۔ شرپسند عناصر نے چلتے راہ لوگوں کو قتل کرکے بڑے بڑے نالوںمیں ڈال دیا جن کی لاشیں کئی دنوں کے بعد پولس نے برآمد کیا۔ مقامی لوگوںکا دعویٰ ہے کہ ابھی تک دس سے پندرہ نوجوان لاپتہ ہیں جن کے بارے میں سرکاری طورپر کوئی اطلاع حاصل نہیں ہوئی ہے۔












