کلکتہ (یواین آئی)انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے سندیش کھالی میں حملے کے واقعہ کو لے کر کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے ۔ مرکزی تفتیشی ایجنسی نے الزام لگایا ہے کہ راشن بدعنوانی کی تحقیقات کے دوران ای ڈی کے اہلکاروں پر گائوں والوں نے حملہ کیا اس کے نتیجے میں افسران زخمی ہوگئے ۔ای ڈی نے دعویٰ کیا ہے کہ میڈیا کے ذریعے انہیں معلوم ہوا کہ پولس نے ای ڈی اہلکاروں کے خلاف ہی ایف آئی آر درج کی ہے ۔ ای ڈی نے عدالت کو بتایا کہ انہیں ہراساں کرنے کے لیے نئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ لہٰذا عدالت اس معاملے میں مداخلت کرے ۔ کلکتہ ہائی کورٹ کے جسٹس جئے سین گپتا نے بدھ کو اس درخواست کی سماعت کے بعد مقدمہ درج کرنے کی اجازت دیدی ہے ۔ کیس کی سماعت رواں ہفتے میں ہونے کا امکان ہے ۔گزشتہ جمعہ کو ای ڈی کی پانچ رکنی ٹیم راشن بدعنوانی کے معاملے کی جانچ کے لیے شمالی 24 پرگنہ کے سندیش کھالی میں ترنمول کانگریس کے لیڈر شاہجہان شیخ کے گھر گئی۔ مرکزی فورسز بھی ساتھ میں موجود تھیں۔ گاؤں والوں کے ایک گروپ نے ای ڈی کے اہلکاروں کو اس وقت گھیر لیا جب ای ڈی اہلکار ترنمول کانگریس کے لیڈر کے بند مکان کا دروازہ توڑنے کی کوشش کررہے تھے ۔ ای ڈی کے تین افسروں کو گاؤں والوں نے مارا پیٹا۔حملہ آوروں کا دعویٰ ہے کہ وہ شاہ جہاں کے حامی ہیں۔ اس حملے میں ای ڈی کے ایک آفیسر شدید زخمی ہوگئے تھے ۔ای ڈی افسران نے گائوں والوں پر لیپ ٹاپ، موبائل اور بیگ چھیننے کا بھی الزام لگایا ہے ۔ای ڈی کے افسران نے دعوی ٰ کیا کہ جب وہ لوٹ رہے تھے اس وقت ان کی گاڑی میں لیپ ٹاپ، موبائل اور بیگ نہیں تھے مبینہ طور پر حملہ آورگائوں والوں نے یہ سامان لے کر گئے ۔ ذرائع کے مطابق مقامی تھانے میں ای ڈی کے خلاف ایف آئی آر درج کر ائی گئی ہے ۔ پولیس نے ترنمول کانگریس کے لیڈر شاہجہاں کے گھر کے دربان کی شکایت پر مقدمہ درج کیا ہے ۔ شکایت کے مطابق ای ڈی کے افسران نے شیخ شاہجہان کے گھر کا تالا توڑا اور بغیر وارنٹ کے اندر داخل ہوگئے ۔ دوسری جانب ای ڈی کی شکایت کے بعد شاہجہان اور اس کے ساتھیوں کے خلاف ایک الگ ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے ۔ ای ڈی نے یہ شکایت ایک ای میل کے ذریعے ڈی جی راجیو کمار اور بشیرہاٹ پولیس ضلع کے ایس پی جوبی تھامس کو بھیجی تھی۔ تاہم ای ڈی نے بتایا کہ اہلکار عدالتی وارنٹ کے ساتھ شاہجہاں کے گھر کی تلاشی لینے گئے تھے ۔ علاوہ ازیںمقامی پولس اسٹیشن نے نامعلوم افراد کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کیا ہے ۔ مقدمہ سرکاری ملازمین کے کام میں رکاوٹ ڈالنے ، توڑ پھوڑ اور میڈیا ورکرز پر حملہ کرنے کے الزام میں درج کیا گیا ہے ۔












