شعیب رضا فاطمی
کانگریس انڈیا الائنس کی موجودہ کار کردگی سے کیونکر مطمئین ہو سکتی ہے ،جبکہ ریاستی انتخابات کی وجہ سے پہلے ہی اتنی تاخیر ہو چکی ہے ؟اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اسمبلی انتخابات میں شکست کی بڑی وجہ کانگریس کی ایکلا چلو کی پالیسی بھی رہی اور اس کے دونوں وزارائے اعلی اور ایک سابق وزیر اعلی بھی ۔اب یہ بات کوئی بھی کہہ سکتا ہے کہ انڈیا الائنس بننے کے بعد بھی اس کے تمام پروگرام کو تعطل میں ڈال کر پوری طرح ریاستی انتخاب میں کانگریس اس لئے مشغول ہو گئی تھی کہ اسے یہ توقع تھی کہ کرناٹک کی طرز پر وہ مدھیہ پردیش میں بھی بی جے پی سے اقتدار چھین لیگی اور چھتیس گڈھ اور گجرات میں اس کی واپسی یقینی ہے ۔اور اس کے بعد الائنس کے ممبران اس کے رحم و کرم پر ہونگے ۔لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا اور آخر آخر وقت تک خود کانگریسی وزرائے اعلی نے مرکزی کانگریس کمیٹی کو اندھیرے میں رکھا ۔حیرت تو اس پر بھی ہے کہ اتنا بڑا سانحہ گذرے بھی ایک ماہ سے زاید ہو گئے لیکن کانگریس نے ابھی تک نہ تو سیٹ شئیرنگ کی گفگو کو انجام تک پہنچایا ہے ،نہ الائنس کا چئیر کسی کے حوالے کیا ہے اور نہ ہی کسی مرکزی دفتر کا کہیں نام و نشان ہے جہاں بیٹھ کر تمام جماعتوں کے لوگ اپنالائحہ عمل بنا سکیں ،پریس کانفرنس کر سکیں ۔گذشتہ روز کانگریس کی تساہلی پر جب سوالات ہونے لگے تب بہار میں کا نگریس کے ایک سینئیر لیڈر سامنے آئے اور یہ کہا کہ سیٹوں کے بٹوارے سمیت انڈیا الائنس کی کارکردگی میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی ہے کیونکہ ابھی تک انڈیا الائنس کے مقابل بی جے پی نے بھی کہیں سے کسی بھی امیدوار کے نام کا اعلان نہیں کیا ہے ۔حالانکہ اکھلیش کمار ایک سینئر لیڈر ہیں ،سابق ممبر آف پارلیامنٹ بھی ہیں اور ایک کالج کے پروفیسر بھی رہے ہیں لیکن انہیں اس بات کا بھی احساس نہیں ہے کہ بی جے پی 365دن انتخابی موڈ میں رہتی ہے ۔اس کی انتخابی ٹیم ایک ایک سیٹ پر سروے کر کے مرکزی دفتر کو رپورٹ دے چکی ہے ۔وسائل کی اس کے پاس کمی نہیں ہے کہ اسے تیاری میں کوئی دقت ہو لیکن انڈیا الائنس کی پارٹیوں کے پاس کیا ہے ؟سوائے اس نعرے کے کہ ہمیں مودی حکومت کو مرکزی سرکار سے بے دخل کر دینا ہے ۔کیا کانگریس اب راہل گاندھی کے دوسرے بھارت جوڑو نیائے یاترا کے نتائج کا انتظار کر رہی ہے ؟اور کیا اسے یہ یقین ہے کہ منی پور سے گجرات تک کی نیائے یاترا کا نتیجہ بھی وہی ہوگا جو کرناٹک میں نظر آیا تھا؟اس کی تساہلی سے صاف لگ رہا ہے کہ اسے اس بات کا بھی اندازہ نہیں کہ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے کس جانفشانی سے اس بھان متی کے کنبے کو جوڑا ہے اور ابھی تک سنبھالے ہوئے ہیں ۔اب تو ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی اور سنگھ پریوار کے علاوہ خود انڈیا الائنس کی کچھ پارٹیوں کے لیڈر بھی یہ نہیں چاہتے کہ بی جے پی کے مقابلے کے لئے مضبوط اتحاد قائم ہو سکے ۔خاص طور پر نتیش کمار اس اتحاد کی کمان سنبھالیں ۔اور یہ ایک ایسی اندرونی سازش ہے جو ان اپوزیشن پارٹیوں کے لئے سیاسی خود کشی کے سوا اور کچھ نہیں ۔کیونکہ 22جنوری کے بعد ایودھیا سے جو طوفان اٹھیگا اس کا مقابلہ سوائے مضبوط اتحاد کے اور کسی کے بس کی بات نہیں ۔لیکن اتحاد کے نام پر انڈیا الائنس کے پاس ابھی کچھ بھی نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس اتحاد پر سوالیہ نشان لگ رہے ہیں ۔












