نئی دہلی ، پریس ریلیز،ہمارا سماج:’’پروفیسر مشیر الحق بیسویں صدی کی ان چند نہایت بیدار مغز اور طباع علمی شخصیتوں میں سے ہیں،جنہوں نے اسلام کے بنیادی وژن کو اپنے فکر وشعور کا حصہ بنایا اور عصری علمی محاورے میں اس کی شرح و تعبیر کا سلسلہ شروع کیا۔‘‘ان خیالات کا اظہار مہمان خصوصی،پروفیسر اقبال حسین،شیخ الجامعہ، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی نے شعبہ اسلامک اسٹڈیز کی بزم تحقیق کی جانب سے منعقد’’تیسرے مشیر الحق قومی سیمیناربرائے ریسرچ اسکالرس‘‘ میں کیا۔انہوں نے مزید فرمایا کہ پروفیسر موصوف نے اپنی تحریروں میںقدیم اسلامی اور عصری علوم کے درمیان مطابقت پیدا کر کے عصرحاضر میں مسلمانوں کو درپیش چیلنجز کو حل کرنے کی کام یاب کوشش کی۔مہمان اعزازی،پروفیسر فرقان قمر،سابق شیخ الجامعہ شملہ و راجستھان مرکزی یونی ورسٹی نے فرمایا کہ پروفیسر مشیر الحق اجتہادی ذہن کے مالک تھے، انہوں نے بانیان جامعہ اورروشن دماغ اہل علم ودانش بالخصوص پروفیسر محمد مجیب،مولانا عبدالسلام قدوائی کے سلسلہ فکر سے وابستہ ہوکر اسلام کی علمی روایت کی تعبیر نو کو مزید جلا بخشی۔پروفیسر اقتدار محمد خان،صدر،بزم تحقیق اورڈین فیکلٹی آف ہیومینٹیز اینڈ لینگویجز نے اپنے افتتاحی کلمات میں فرمایاکہ پروفیسر مشیر الحق اسلام کو عصری مذہب اور مسلمانوں کو سرگرم عمل اور زمانہ شناس قوم کی شکل میں دیکھنے کے خواہش مند تھے،اسی لیے انہوںنے مسلمانوں کے موجودہ معاشرتی اورمذہبی رویوں اور غور وفکر کا گہرائی سے تجزیہ کیا اور قدیم اسلامی بصیرتوں کی روشنی میں ان کی متعدد خامیوں کی نشان دہی کی اور انہیں دور کرنے کا عزم کیا۔ مہمان اعزازی ،پروفیسر فہیم اختر،سابق صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز،مولانا آزادنیشنل اردو یونیوورسٹی،حیدرآباد نے سیمینار کے مرکزی موضوع ’’نبوی معاشرہ اور اس کی عصری معنویت ‘‘کی اہمیت وافادیت اجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے ریسرچ اسکالرس اور طلبہ اس وقت سیرت طیبہ کے پیغام کو عصر حاضر سے مربوط کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ بزم تحقیق کے مشیرڈاکٹر محمد خالد خان نے استقبالیہ کلمات میں معززمہمانوں کا تعارف کرایا اور سیمینار کے اغراض ومقاصدکی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کا بنیادی مقصد طلبہ کو تحقیق کی طرف مائل کرنا اورانہیں اس کی اہمیت سے روشناس کرانا ہے۔












