ریاض:سعودی وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود نے سماجی روابط کے پلیٹ فارم "ایکس” پر اپنے اکاؤنٹ پر کہا ہے کہ سعودی عرب نے منشیات سے نمٹنے اور ان کے سمگلروں اور ڈیلروں کی گرفتاری کے لیے فعال حفاظتی منصوبوں کے ذریعے غیر معمولی کوششیں کی ہیں اور اس حوالے سے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروے کار لا کر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ منشیات کی لعنت اور اس سے لاحق خطرات کا مقابلہ کرنے میں بہت سی کامیابیاں حاصل کی گئیں تاہم سعودی عرب کی سلامتی کو خطرہ لاحق کرنے والے کسی بھی چیز کا مضبوطی اور پوری طاقت سے مقابلہ جاری رہے گا۔سعودی وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود نے زور دے کر کہا کہ سعودی عرب میں سکیورٹی حکام منشیات کا مضبوطی سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ معاشرے کو اس لعنت سے نشانہ بنانا سب سے خطرناک ہتھیاروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ سمگلروں اور منشیات فروشوں کے لیے کسی بھی طرح سے نوجوانوں کو نشانہ بنانے یا سکیورٹی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی گنجائش نہیں چھوڑی جائے گی۔ انہوں نے منشیات فروشوں اور سمگلروں کی اطلاع دے کر منشیات کے خلاف جنگ میں کردار ادا کرنے والوں کی تعریف کی۔دریں اثنا سعودی عرب میں پبلک سیکیورٹی کے ڈائریکٹر لیفٹیننٹ جنرل محمد البسامی نے کہا ہے کہ سعودی حکومت نے منشیات کی لعنت کے خطرے کو محسوس کیا اور اپنی عوام اور ان کے حقوق کے تحفظ کا خیال رکھنے پر توجہ دی ہے۔ ہر وہ چیز جو ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچا سکتی اور لگوں کے ذہنوں کو خراب کرسکتی ہے کا پوری عزم کے ساتھ مقابلہ کیا جائے گا۔
لیفٹیننٹ جنرل محمد البسامی نے مزید کہا کہ قوموں کی سلامتی کو غیر مستحکم کرنے والی اس خطرناک لعنت سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی اور پولیس ایجنسیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے آلات اور طریقے تیار کریں اور تکنیکی انقلاب کے ساتھ ہم آہنگ رہیں تاکہ اس قسم کے جرائم کو مؤثر طریقے سے روکا جا سکے۔ البسامی نے معاشرے کے تمام طبقات پر زور دیا کہ وہ اس لعنت اور اس کے خطرات سے ہوشیار رہیں اور اس سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی سرکاری کوششوں کی حمایت کریں۔












